021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگرجنگلات حکومت نے اپنی تحویل میں لے لئے ہوں توان کی خریدوفروخت حکومت کی اجازت کے بغیر جائزنہیں
..خرید و فروخت کے احکامزمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے سنہ1992٫ کوزیدسے ایک جنگل فی فٹ ۳۰ روپے کے حساب سے خرید لیا تھا ،اوراب تک 39140 روپے بھی میں نے اداء کردیئے ہیں ،حکومت سے اجازت لینے پرجتناخرچ آیاتھا،(جومبلغ 75000 ہزارتھا،)اس کوبھی میں نےاداء کردیاتھا،اورجنگل میں جن درختوں پرہماری بیع ہوئی تھی ،حکومت کی طرف سے حکومتی کارندوں نے ان درختوں پرنشان بھی لگادئیے اورمجھے ان درختوں کوکاٹنے کی اجازت دے دی ،تومیں نے کٹائی کاکام شروع کردیااوربائع (زید) کومبلغ 39140روپے بھی میں نے اداء کردیئے تھے،اس کے بعدحکومت کی طرف سےلاعلی التعیین تمام جنگلات کےکاٹنے پرپابندی عائدکی گئی جس کی وجہ سے میں نے کام روک دیا،اب جبکہ حکومت کی طرف سے مجھے اجازت مل چکی ہے ، جس کی وجہ سے میں دوبارہ ان نشان شدہ درختوں کوکاٹ رہاہوں ،اورزید (بائع )کہتاہے کہ ہماری وہ بیع جو 1992٫ کوہوئی تھی ،وہ حکومت کی پابندی عائدہونے کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے ،اب اگر تودرخت کاٹناچاہتاہے ،توازسرنوبیع کریں گے ،نئی قیمت مقررہوگی ۔ میں کہتاہوں کہ بیع ہماری ہوئی ہے ،البتہ درمیان میں جنگلات پرحکومتی پابندی کی وجہ سے میں نے اپناکام روکاتھا،اوراب پابندی ختم ہونے پرپھرکام شروع کررہاہوں اور1992٫کی بیع کے بعداب تک ان درختوں کی حفاظت میں نے کی ہے اپنے سمجھ کراورمیرے پاس اس معاملہ پرسرکاری کاغذات اورگواہ بھی ہیں ۔ اب آپ حضرات سے مندرجہ ذیل امورکاجواب مطلوب ہے : ۱۔1992٫ کوجوہماری بیع ہوئی تھی وہ صحیح تھی یانہیں ؟اب میراتصرف صحیح ہے یانہیں ؟ ۲۔ 1992٫کی بیع کے بعد حکومتی پابندی لگنے کی وجہ سے ہماری سابقہ بیع ختم ہوچکی ہے یاوہ بیع اس حکومتی پابندی کے باوجودبرقرارہے ؟ برائے کرم شرعی حکم تحریر فرماکرثواب دارین حاصل کریں۔

o

جنگلات دراصل مباح الاصل ہیں، ہرکوئی ان کواپنی ضرورت پوری کرنے کے حدتک کاٹ سکتاہے ،البتہ اگرحکومت نے ان کواپنی تحویل میں لے لیاہو،اورعوام کوحکومت کی اجازت کے بغیر استعما ل سے منع کیاہوتو ایسی صورت میں مباح عام نہیں رہتے، بلکہ حکومت کی ملک میں آجاتےہیں ،حکومت کی ملک میں آنے کے بعداس کی خریدوفروخت کے لئے حکومت کی اجازت ضروری ہوگی ،اس کے بغیر جومعاملہ ہوگاوہ باطل وکالعدم ہوگا۔ ۱۔ صورت مسئولہ میں اگرحکومت نے ان پرقبضہ کیاہواورزیدنےبھی حکومت سے خریداہوتو1992٫ کوآپ نے جوبیع کی تھی وہ صحیح ہے ،اوراس میں آپ کاتصرف بھی صحیح ہے ۔ ۲۔چونکہ حکومت کے ایسے قوانین کی پابندی لازمی ہے ،جوشریعت کے مخالف نہ ہوں ،اس لئے 1992٫ کوجوبیع ہوئی تھی،اس بیع کی چونکہ اجازت تھی ،اس لئے وہ بیع ٹھیک ہے 1992٫ کے بعدکوئی بیع کی تووہ حکومت کی پابندی کی وجہ سے جائزنہ ہوگی ،لیکن اس پابندی کی وجہ سے بیع کے درست ہونے پرکوئی اثرنہیں پڑےگا،لہذااب جب حکومت نے بیع کی اجازت دے دی، تونئے سرے سے بیع کی ضرورت نہیں،بلکہ وہ سابقہ بیع ہی کافی ہے ۔

حوالہ جات

"ر د المحتارعلی الدرالمختار" 21 / 479: مطلب طاعة الإمام واجبة . قوله : أمر السلطان إنما ينفذ ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب ا هـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى . قوله : (يلزم منه سخطك ) أي إن عصوك وسخط الخالق أي إن أطاعوك ا هـ ح عن الأشباه ، وفي سخط ضم المهملة مع سكون الخاء المعجمة وفتحهما ، ونقل عن الصيرفية جواز التحليف ، وهو مقيد بما إذا رآه القاضي جائزا أي بأن كان ذا رأي .أما إذا لم يكن له رأي فلا ط عن أبي السعود ، والمراد بالرأي الاجتهاد . أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا .أشباه من القاعدة الخامسة. "رد المحتارعلی الدرالمختار" 27 / 159,158: ( قوله المسلمون شركاء في ثلاث ) أي شركة إباحة لا شركة ملك ، فمن سبق إلى شيء من ذلك في وعاء أو غيره وأحرزه فهو أحق به وهو ملك له دون من سواه يجوز له تمليكه بجميع وجوه التمليك ، وهو موروث عنه وتجوز فيه وصاياه ، وإن أخذه أحد منه بغير إذنه ضمنه ، وما لم يسبق إليه أحد فهو لجماعة المسلمين مباح ليس لأحد منع من أراد أخذه للشفة إتقاني عن الكرخي ( قوله والكلأ ) هو ما ينبسط وينتشر ولا ساق له كالإذخر ونحوه والشجر ما له ساق ، فعلى هذا الشوك من الشجر لأن له ساقا ، وبعضهم قالوا الأخضر ، وهو الشوك اللين الذي يأكله الإبل كلأ والأحمر شجر وكان أبو جعفر يقول : الأخضر ليس بكلإ ، وعن محمد فيه روايتان ، ثم الكلام في الكلأ على أوجه أعمها ما نبت في موضع غير مملوك لأحد ، فالناس شركاء في الرعي والاحتشاش منه كالشركة في ماء البحار وأخص منه ، وهو ما نبت في أرض مملوكة بلا إنبات صاحبها ، وهو كذلك إلا أن لرب الأرض المنع من الدخول في أرضه ، وأخص من ذلك كله وهو أن يحتش الكلأ أو أنبته في أرضه فهو ملك له ، وليس لأحد أخذه بوجه لحصوله بكسبه ذخيرة وغيرها ملخصا…قال ط : والقير والزرنيخ والفيروزكالشجر ، ومن أخذ من هذه الأشياء ضمن. خزانة المفتين۔ "الفقہ الاسلامی وادلتہ"4 /2909 : الآجام :الشجرا لکثیفۃ فی الغابات اوالارض غیرالمملوکۃ ۔ حکم الکلأ ان لایملک وان نبت فی ارض مملوکۃ بل ھومباح للناس جمیعا،لہم اخذہ ورعیہ ولیس لصاحب الارض منعہم من ذالک لانہ باقی علی الاباحۃ الاصلیۃ وھوالراجح فی المذاھب الاربعۃ لعموم حدیث ۔الناس شرکاء فی الثلاث ۔الخ واماالآجام فھی من الاموال المباحۃ ان کانت فی ارض غیرمملوکۃ فلکل واحد حق الاستیلاء علیھاواخذمایحتاجہ منھاولیس لاحد منع الناس عنھا،اذااستولی شخص علی شیئ منھاواحرزہ صارملکالھالکن للدولۃ تقیید المباح بمنع قطع الاشجار رعایۃ لمصلحۃ عامۃ وابقاء علی الثروۃ الشجریۃ المفیدۃ ۔ اماان کانت فی ارض مملوکۃ فلاتکون ملکامباحابل ھی ملک لصاحب الارض فلیس لاحد ان یأخذ منھاشیئاالاباذنہ ،لان الارض لاتقصد لآجامھا۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔