| 75346 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
جناب مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ میرے پاس ڈیڑھ تو لہ سونا ہے ،اور اس کے علاوہ دس بارہ ہزار روپے بھی ہیں ،اب بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس پر زکوة نہیں ہے ،کیونکہ یہ سونا نصاب سے کم ہے ،اور بعض مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ اس سونے کی قیمت اور نقدی ملائی جائے تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ بنتی ہے اس لئے سال پورا ہونے پر زکوة لازم ہوگی اور قربانی بھی واجب ہے ۔
اب درخواست یہ ہے کہ کیا واقعة اس نصاب زکوة و قربانی لازم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زکوة کے نصاب میں چار چیزیں دیکھی جاتی ہیں سونا، چاندی ، نقدی اورتجارت کاخریدا ہوا مال جو آگے بیچنے کی نیت سے خریدا ہو ،اورابھی تک وہ نیت بھی بر قرار ہو۔ اگر کسی شخص کی ملک میں ان میں سے کوئی ایک دو یا سب قسم کے مال اتنی مقدار میں جمع ہو جائیں کہ ان کے مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو وہ شخص نصاب کا مالک شمار ہوتاہے ، چنانچہ مالک بننے کی تاریخ سے مکمل ایک سال گذرنے کے بعد اس پر زکوہ ادا کرنا فرض ہوتا ہے ۔
اس وضاحت کے بعد صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ چونکہ آپ کی ملک میں موجود سونے کی قیمت میں نقدی جمع کرنے سے چاندی کے حساب سے زکوة کا نصاب مکمل ہوگیا ہے ، اس لئے آپ کے ذمے زکوة وقربانی دونوں لازم ہیں ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 295)
(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل)
الی قولہ ۰۰۰(أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد.
(من ذهب أو ورق) ۰۰۰۰۰(مقوما بأحدهما)إن استويا، فلو أحدهما أروج تعين التقويم به؛ ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومه بالأنفع للفقير سراج۔
(قوله: تعين التقويم به) أي إذا كان يبلغ به نصابا، لما في النهر عن الفتح: يتعين ما يبلغ نصابا دون ما لا يبلغ، فإن بلغ بكل منهما وأحدهما أروج تعين التقويم بالأروج۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 303)
(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا بالإجزاء، فلو له مائة درهم وعشرة دنانير قيمتها مائة وأربعون تجب ستة عنده وخمسة عندهم
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 19)
إذا كان له أقل من عشرين مثقالا وأقل من مائتي درهم وله عروض للتجارة ونقد البلد في الدراهم والدنانير سواء فإن شاء كمل به نصاب الذهب وإن شاء كمل به نصاب الفضة وصار كالسود مع البيض بخلاف السوائم؛ لأن الحكم هناك متعلق بالصورة والمعنى وهما مختلفان صورة ومعنى فتعذر تكميل نصاب أحدهما بالآخر،
احسان اللہ شائق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۵جمادی الثانیہ ١۴۴۳ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان اللہ شائق | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


