021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لاپتہ شوہر کا حکم
54747طلاق کے احکاموہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے

سوال

میرا یک مسئلہ ہے جس کا مطلوب ہے میری بہن کا شوہر تقریبا سات سال پہلے سنہ ۲۰۰۹میں سوات بونیر جنگ کے دوران لاپتہ ہوگیا ہے اور اسکی وفات کی خبر بی بی سی سے نشر ہوئی اور اخباروں میں بھی چھپی اور قریبی ساتھیوں نے بھی اطلاع دی کہ وہ زندہ نہیں وفات پاچکا ہے ،لیکن چشم دید طور پرابھی معلوم نہیں ہوا کہ وہ زندہ ہے یا وفات پاچکاہے ۔اب زندہ رہنے کیافواہیں پھل رہی ہیں جوکہ بات شک کی طرف جارہی ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ میری بہن کا نکاح کسی دوسری جگہ جائز ہے یانہیں ؟اگر جائز ہے تو تفصیلی طریقہ کا ر ارسال فرمائیں

o

صورت مسئولہ میں جب یہ شخص جنگ کے دوران لاپتہ ہوا اورنشریاتی اداروں نے اس شخص کی وفات کی خبر نشر کی اور قریبی ساتھیوں نے خبر کی تصدیق کردی، اس کے بعد سات سال کا عرصہ گذر گیا اس دوراں اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو ا ،یہ سب باتیں بظاہر اس بات کی علامتیں ہیں کہ اسکی موت واقع ہو چکی ہے ، بقول سائل کچھ افواہیں اس شخص کے زندہ ہونے کی بھی پھیل رہی ہیں لیکن کوئی حتمی اور یقینی بات نہیں تو ایسی صورت حال میں اس مسئلہ کا حکم یہ ہے کہ عورت عدالت میں اپنادعوی پیش کرے اور شرعی شہادت سےثابت کرے کہ یہ شخص اس کا شوہر ہے اور لاپتہ ہے حاکم اس کی تلاش میں پوری کوشش کرے ،جب کسی صورت میں بھی اس مرد کا پتہ نہ چل سکے اور حاکم کو یہ گمان غالب ہو جائے کہ یہ شخص جنگ میں مرگیا ہے تواس وقت فسخ نکاح کا حکم صادر کرے ،اس کے بعد عورت عدت وفات چارماہ دس دن گذار کر دوسرا نکاح کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

حاشية رد المحتار (4/ 488) قوله: (واختار الزيلعي تفويضه للامام) قال في الفتح: فأي وقت رأى المصلحة حكم بموته.﴿الی ان قال﴾ ومقتضاه أن يجتهد ويحكم القرائن الظاهرة الدالة على موته، وعلى هذا يبتني على ما في جامع الفتاوى حيث قال: وإذا فقد في المهلكة فموته غالب فيحكم به، كما إذا فقد في وقت الملاقاة مع العدو أو مع قطاع الطريق، أو سافر على المرض الغالب هلاكه، أو كان سفره في البحر وما أشبه ذلك حكم بموته، لانه الغالب في هذه الحالات وإن كان بين احتمالين، واحتمال موته ناشئ عن دليل لا احتمال حياته، لان هذا الاحتما كاحتمال ما إذا بلغ المفقود مقدار ما لا يعيش على حسب ما اختلفوا في مقدار نقل من الغنية اه.ما في جامع الفتاوى. وأفتى به بعض مشايخ مشايخنا وقال: إنه أفتى به قاضي زاده صاحب بحر الفتاوى، لكن لا يخفى أنه لا بد من مضي مدة طويلة حتى يغلب على الظن موته لا بمجرد فقده عند ملاقاة العدو أو سفر البحر ونحوہ البتہ اگر جدید نکاح کے بعد پہلا شوہر آگیا تو اس کے احکام یہ ہیں ۔ ١۔ یہ عورت پہلے شوہر کو ملے گی ، اور اس کا پہلا نکا ح ہی باقی ہے ،جدید نکاح کی ضرورت نہیں ۔ ۲۔اگر دوسرے شوہر نے خلوت صحیحہ کی ہو تو کل مہر دے گا اور عورت پر عدت طلاق واجب ہوگی ،اگر خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو تو نہ مہر واجب ہوگا نہ عدت ۔ ۳۔بصورت خلوت صحیحہ دوسرے شوہر سے علحدہ ہوکر عدت گذار کر پہلے شوہر سے ہمبستری ہوسکے گی ۔ ۴۔ عدت پہلے شوہر کے پاس گذارے ،مگر عدت گذرنے تک اس کے لئے ہمبستری جائز نہیں ۔ ۵۔ اگر دوسرے شوہر سے حالت نکاح میں یا فسخ نکاح کے بعد زمانہ عدت میں کوئی اولاد پیدا ہوئی تو وہ دوسرے شوہر کی ہوگی ۔ المبسوط للسرخسي (11/ 37) وكأن عمر - رضي الله عنه - إنما رجع عن قوله في امرأة المفقود لما تبين من حال هذا الرجل، وأما تخييره إياه بين أن يردها عليه وبين المهر فهو بناء على مذهب عمر - رضي الله عنه - في المرأة إذا نعي إليها زوجها فاعتدت، وتزوجت ثم أتى الزوج الأول حيا إنه يخير بين أن ترد عليه وبين المهر، وقد صح رجوعه عنه إلى قول علي - رضي الله عنه -، فإنه كان يقول ترد إلى زوجها الأول، ويفرق بينها وبين الآخر، ولها المهر بما استحل من فرجها، ولا يقربها الأول حتى تنقضي عدتها من الآخر وبهذا كان يأخذ إبراهيم - رحمه الله - فيقول: قول علي - رضي الله عنه - أحب إلي من قول عمر - رضي الله عنه -، وبه نأخذ أيضا؛ الی قولہ فعرفنا أن الصحيح أنها زوجة الأول، ولكن لا يقربها لكونها معتدة لغيره كالمنكوحة إذا وطئت بالشبهة.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔