021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی خرچہ اورکاروبارکاتفصیلی حساب نہ ہوسکے توزکوة کاحکم
56235.3زکوة کابیانسامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان

سوال

مال جودوکاندار ادھارپرلیتے ہیں اس کی رقم کی وصولی رفتہ رفتہ ہوتی ہے رقم جوکمپنی کومزید مال کے حصول کے لئے بھیجی جاتی ے مطلوبہ مال کی بھی کمپنی سے رفتہ رفتہ سپلائی ہوتی ہے ،بعض اوقات مال کی کمی کے باعث رقم پھیلتی رہتی ہے ،ذاتی اورکاروباری دیگراخراجات کاتفصیلی حساب آمدن یاخرچ کااندازہ ترتیب نہیں دیاجاسکتاہے ،لہذااس صورت میں زکوة کاکیاحکم ہوگا؟

o

دوکانداروں کے ذمہ دن جس کی وصولی رفتہ رفتہ ہوتی ہے،وہ جب وصول ہوگاتوسال کے آخرمیں وصولیاں جمع کرکے باقی مال کے ساتھ ملاکرزکوۃ دی جائےگی،اوراگردوتین سال بعد وصولی ہوئی توسابقہ سالوں کی زکوۃ بھی دی جائےگی۔ اورمال کی خریداری کے لئے جورقم دی گئی ہووہ رقم بھی شرعاقرض ہے،جوزکوۃ کے حساب میں آئےگی اورجب اس کے عوض مال تجارت وصول ہوتواس مال تجارت کی مالیت(قیمت فروخت ) کاحساب ہوگااورذاتی ضرورت کے لئے جواخراجات ہوچکےہوں اورآپ کے ذمہ میں دین ہوں توان کومنہاکیاجائےگا۔ قرضوں میں وجوب زکوۃ میں تفصیل یہ ہے کہ وہ معمولی قرضےجن کوانسان اپنی ضرورت کے لئےمجبورالیتاہے،ان کومنہاکرنے کے بعد زکوۃ دی جائےگی۔ اورکاروبارکے لئے جوقرضے لئےجاتےہیں ان میں تفصیل یہ ہے کہ اگرکسی نےقرض لیااوراس قرض سے ایسی اشیاء خریدی جوخودقابل زکوۃ ہیں مثلاخام مال خریدلیایامال تجارت خریداتواس کومجموعی مالیت سے منہاکریں گے،لیکن اگرایسی چیزیں خریدیں جوقابل زکوۃ نہیں مثلامشینری تواس کومجموعی مالیت سے منہانہیں کریں گے۔ ذاتی اورکاروباری اخراجات کافرق بہرحال کرناپڑےگا۔

حوالہ جات

"حاشية رد المحتار" 2 / 28(: فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الاصلية لا تجب الزکوۃ فيها إذا حال الحول وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزکوۃ تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقدير اه. قلت: وأقره في النهر والشرح نبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج: سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التاترخانية: نوى التجارة أو لا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح: إنه الحق، فالاولى التوفيق بحمل ما في البدائع، وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصد الانفاق أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الاصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا وبين ما حال الحول عليه وهو محتاج منه إلى أداء دين كفارة أو نذر أو حج، فإنه محتاج إليه أيضا لبراءة ذمته، وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لو كان له مال ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذ اخرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد، فليتأمل والله أعلم۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔