021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شراب کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کاحکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرے ایک دوست تقریبا گزشتہ بیس سال سے برطانیہ میں شراب کی ایک کمپنی چلا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تبلیغ والوں کی محنت سے وہ دین کے ساتھ جڑے، اپنی سابقہ زندگی سے توبہ کر لی اور اپنے پرانے کاروبار کوبھی چھوڑ دیا ، لیکن چونکہ ان کے پاس ایک بڑی مقدار میں رقم موجود ہے جو اسی کاروبار سے جمع کی ہے،لہذا براہ مہربانی ہمیں بتائیں کہ ہم اب اس رقم کا کیا کریں؟؟ہمارے ایک جاننے والے عالم ہیں،انہوں نے بتایا ہے کہ یہ ساری رقم اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا ضروری ہے،اب ان کے پاس کوئی اور پیسے نہیں ہیں تو کیا وہ کوئی اور کام ملنے تک اس رقم میں سے کچھ پیسے استعمال کر سکتے ہیں،جس کو بعد میں صدقہ کردیں۔ o

o

شراب کے کاروبار سے کمائی ہوئی تمام رقم حرام ہےاورحرام مال کے بارےمیں اصل حکم تو یہ ہے کہ وہ اصل مالک کو واپس کیا جائے،اوراگر کسی وجہ سے اصل مالک کو رقم واپس کرنا ممکن نہ ہو،تو اس صورت میں لازم ہوتاہے کہ اس ساری رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے کسی مستحق کو دےدیا جائے، موجودہ صورت میں چونکہ اصل مالکوں کو رقم لوٹانا ممکن نہیں اور آپ کے دوست کےپاس اس کے علاوہ مزیدکوئی رقم بھی نہیں ،لہذاوہ خود بھی فقیر کے حکم میں ہے،اس لئے کہ جو رقم اس کے پاس ہے وہ اس کا مالک ہی نہیں، وہ رقم اصل مالکوں کی ہے، مالک معلوم نہ ہوں یاان تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو فقراء اس کے مستحق ہیں، جن میں خود یہ شخص بھی شامل ہے،لہذا اگر وہ اس رقم میں سے صرف بقدر ضرورت لے تو اس کی گنجائش ہے،اس صورت میں یہ رقم بعد میں صدقہ کرنا ضروری نہیں۔البتہ گزشتہ گناہ سے توبہ اور استغفار لازم ہے۔

حوالہ جات

قال في فتح القدير: "أقول : هذا هو الظاهر ، ولكن فيه أيضا شيء ، وهو أن الصرف إلى حاجة نفسه إنما يجوز رأسا إذا كان لا يجد غير تلك الغلة كما أفصح عنه المصنف بقوله ليس له أن يستعين بالغلة في أداء الثمن إليه إلا إذا كان لا يجد غيره ، ولا يخفى أنه إذا كان لا يجد غير ذلك كان فقيرا ألبتة فلم يكن وجه لترديد المصنف حينئذ بقوله فلو أصاب مالا تصدق بمثله إن كان غنيا وقت الاستعمال وإن كان فقيرا فلا شيء عليه." (ج:21 ,ص: 193 , المكتبة الشاملة ) وفي تبيين الحقائق: "إذا كان لا يجد غيره فترجح هو على غيره من الفقراء باعتبار أنه ملكه، وهو محتاج إليه كما أن الملتقط له أن يصرف اللقطة على نفسه إذا كان محتاجا ثم إذا أصاب مالا تصدق بمثله إذا كان غنيا وقت الاستغلال وإن كان فقيرا فلا شيء عليه." (ج:5,ص:255, المطبعة الكبرى الأميرية) وفي الفتاوى التاتارخانية: "غصب عشرة دنانير، فألقى فيها دينارا، ثم أعطى منه رجلادينارا، جاز،ثم دينارا آخر، لا." (ج:16,ص:509, مكبتة زكريا,بديوبند)
..

n

مجیب

سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔