021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فون پر تجدید نکاح سے متعلق مکررسؤال پر جواب
77775نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر فون پر شوہر کو اختیار دے دیا جائے اور کہا جائے کہ آپ اپنا نکاح  اتنے حق مہر میں  میرے ساتھ کر لیں اور وہ دو گواہوں کے سامنے کہیں کہ میں نے اپنا نکاح اتنے مہر میں میں فلاں سے کر لیا ہے تو کیا تجد ید نکاح ہو جائے گا؟ 

o

فون پر کسی کو وکیل بنانا بالاتفاق درست ہے، لہذا صرف توکیل فون پر ہو اوربیوی کی طرف سے وکیل بننے کیے بعدشوہر  اس طرح تجدید نکاح کرے کہ گواہ اس کے پاس نکاح کی مجلس میں موجود ہوں اور وہ ان کے سامنے مذکورہ طریقے سے ایجاب وقبول دونوں خود کرے تو اس طرح نکاح کی تجدید شرعا درست ہے۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 190)
وينعقد بلفظين أحدهما مستقبل لأنه توكيل، والواحد يتولى طرفي النكاح فينعقد بكلام الواحد كما ينعقد بكلام الاثنين

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸صفر۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔