021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کا حکم
77776طلاق کے احکامبیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کھانے کے مسائل

سوال

اگر شوہر نے پاس نہ آنے کی قسم کھائی ہو تو رخصتی سے پہلے اس سے بات چیت کرنا ملنا جائز ہے؟ اور فقط بات کرنے سےیاتنہائی میں ملنے سے ایلاء ختم ہو جائے گا یا رخصتی کرنا ضروری ہے؟ اور قسم کا کفارہ پہلے دینا ہوگا یا بعد میں یا فوراً؟براہِ مہربانی رہنمائی فرما دیں۔

o

ایلاء کےانعقادکے بعداگر چار ماہ تک قریب نہ گیا تو بوجہ ایلاء کے ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور اگر چار ماہ سے قبل قریب چلا گیا  یعنی ہمبستری کی تو ایلاء ختم ہوجائے گا اور قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔

باقی اگر شوہر اور بیوی دونوں جماع پر قادر ہوں اور جماع سے کوئی اورمانع بھی نہ ہوتورخصتی سے قبل یا بعد میں صرف باتیں کرنے یا تنہائی میں ملنے سے ایلاء ختم نہ ہوگا،اس لیے کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے ایلاء کو ختم کرنے کی دوہی صورتیں لکھی ہیں:

(۱)مرد چار ماہ سے قبل جماع کرلے۔

(۲)مرد یا بیوی میں موجود کسی عارضہ وغیرہ کی وجہ سے جماع ممکن نہ ہو تو صرف زبان سے  رجوع بھی کافی ہے۔

باقی کفارہ چار ماہ سے قبل ایلاء ختم کرنے(بیوی کے پاس جانے)کی صورت میں ہی ضروری ہوگا، ایلاء ختم کرنے سے پہلے کفارہ دینا شرعا معتبر نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 425)
(ف) من الصريح (لو قال: والله) وكل ما ينعقد به اليمين (لا أقربك)
(قوله: لا أقربك) أي بلا بيان مدة، أشار إلى أنه كالمؤقت بمدة الإيلاء لأن الإطلاق كالتأبيد،
الفتاوى الهندية (1/ 485)
الإيلاء متى كان مرسلا وكان المولى صحيحا وقت الإيلاء قادرا على الجماع ففيؤه بالجماع لا باللسان هكذا في محيط السرخسي.
ولو قبلها بشهوة أو لمسها بشهوة أو نظر إلى فرجها بشهوة أو جامع فيما دون الفرج لا يكون فيئا كذا في التتارخانية.
وإن كان المولى مريضا لا يقدر على الوطء أو كانت مريضة ففيؤه أن يقول: فئت إليها فإن قال ذلك فهو كالفيء بالوطء في إبطال حكم البر ما دام مريضا كذا في الكافي.
الفتاوى الهندية (1/ 476)
فإن قربها في المدة حنث وتجب الكفارة في الحلف بالله سواء كان الحلف بذاته أو بصفة من صفاته يحلف بها عرفا وفي غيره الجزاء ويسقط الإيلاء بعد القربان وإن لم يقربها في المدة بانت بواحدة كذا في البرجندي شرح النقاية.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸صفر۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔