021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقامات تصوف کی تحصیل اور مختلف کیفیات واردہ کا حکم
77772تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیانمعجزات اور کرامات کا بیان

سوال

حضرت! میں بنگلہ دیش ڈھاکہ سے ہوں اورالحمدللہ مدرسہ سے فارغ ہوئے 7۔سال گذرے ہیں اور علم اور روحانیت کا انتہای شوقین ہوںولیکن مختصر طور پر میرا پہلے اپنی  گذشتہ زندگی کا حال عرض کرنا سوالات کےلیے ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھ پر بالکل بچپن سےجس وقت سے مجھے یاد ہے سخت ترین جادوبندش اور لاکھوں بلکہ کروڑوں خبیث جنات اور بمطابق قول دیندار عالم عامل کے عفاریت وغیرہ مسلط تھے اور میں قسم قسم اور گوناگوں ظلم کا شکار تھا،مختلف قسم کے ظلم کےنتیجہ میں سخت ترین نفسیاتی امراض پیداہوچکےتھے،جنکی تعداد کم وبیش 30۔35کےلگ بھگ ضرور تھی،لیکن باوجودان تمام کےامراض کی تشخیص 25 سال تک نہ ہونے پائی تھی اور بعداس کی تشخیص کے بھی 5۔6سال مسلسل مختلف قسم کی تدبیریں اور علاج معالجہ کے بعد اب الحمد للہ قریب افاقہ کے ہوںاور بقول ان دیندار عامل کے میرے اندربزرگ بننے کے مادہ اور احتمال کو یہ شیاطین کسی طریق سے معلوم کرکے مجھ پر اثر انداز ہوئے تھےاور ان سب کی وجہ سے مجھے جتنےنفسیاتی, روحانی،جسمانی،معاشرتی اورطرح طرح کی مشقت ، رنج ,درد ,مصائب کثیرہ برداشت کرنے پڑے ایسے شاید ہی کروڑوں میں سے کسی کو ہوتے ہیں,عام انسان جسے سوچ بھی نہیں سکتے ۔ اللہ ایسے کسی دشمنون کو بھی نہ دے، بالکل زندگی سے مایوسی ہوچکے تھےاور گھنٹے دعاؤوں اور رونے زاری میں گذرتے،بہر حال یہ تھےمختصر گذشتہ حالات،جسکی اطلاع ضروری تھی، اب آتے ہےسوالات کی طرف:

سوال نمبر1:یہ ہے کہ مجھے بچپن ہی سے گاہ بگاہ حالت بیداری اور نیند دونو میں بہت ہی حسین اوردلکش مناظر ایک دو لمحہ کےلئے بکثرت نظر آتے تھے،جسکی مثال باعتبار حسن اور راحت چشم کے دنیا میں نہیں ملتی,بالکل نرالے قسم کے ہوتے تھے۔ سوال یہ ہےکہ حقیقت اس کی کیاہو سکتی ہے اور اس میں کیا کیا احتمالات ہوسکتے ہیں؟

 سوال نمبر2: یہ ہے کہ مجھےاللہ رب العزت کی اکمل درجے کی معرفت ,توحید حالی, اور ان تمام مقامات جو متقدمین اولیا اللہ کو حاصل ہوتے تھے ،جیسےکہ مقام فنا۔ فنا در فنا۔ مقام بقا ,مقام شھود۔ معیت خاصہ، نسبت حضوری دائمی و یاد داشت اور سیر الی اللہ,سیر فی اللہ کے تمام درجات اور نسیان ماسوا اللہ اورمطلق ذہول ۔وغیرہ تمام روحانی نعمتیں جس طرح بھی ہو ،کسی بھی شئ کے عوض میں ہوں حاصل کرنے کی انتہائی خواہش ہے۔ براہ کرم بتائیں کہ کیا اس زمانے میں بھی یہ نعمتیں حاصل کرنا ممکن ہے؟ اگر ہےتو اس کی خاطر کیا کیا طریقہ اختیار کرنا چاہے؟؟؟برائے کرم اللہ کے واسطے بتا دینے پر بہت ہی مشکور ممنون رہوں گا۔ اللہ کے واسطے جلد ازجلد تشفی بخش اور مفصل جواب دیجئے گا۔ کیونکہ بہت سال سے اس کا انتہائی شوقین ہوں اور بہت ہی مشقت سے تقریبا ڈیڑھ دو گھنٹہ سے یہ سوال لکھ رہا ہوں،کیونکہ میرے موبائل کا کی بورڈ اچھی طرح کام نہیں کررہا ہے، ایک حرف کےبجائے دیگر آجاتا ہے،پھر بھی بہت مشقت سے لکھا۔

o

آ پ تصوف کی ان اصطلاحات  میں نہ پڑیں،کیونکہ یہ شریعت میں اصلی مقاصدمیں سےنہیں ہیں،اصل مقصد اتباع شریعت کےذریعہ رضائے الہی کاحصول ہےجس کے لیے صرف اعمال  ماثورہ واذکار مسنونہ کا اہتمام کریں، ورنہ اندیشہ ہے کہ آپ کسی نفسیاتی مسئلہ یا جنون کا شکار ہوسکتے ہیں،یہ مختلف  مناظرنظر آنا نفسیاتی مسئلہ ہونے کی علامت  ہےاور اس کی حقیقت یہی ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸صفر۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔