021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد کافرش پاک کرنے کا طریقہ
..پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء مسائل ذیل کے بارے میں کہ مسجد کی صفیں ،دریاں ، ،پکی اینٹوں کا فرش ،اور دیواریں ، ماربل ٹائل کا فرش اور دیواریں وغیرہ ان پر اگر نجاست لگ جائے تو ان کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

o

مسجد کے فرش پر نجاست لگ جا نے کی صورت میں اگر اس کےبعد فرش خشک ہوجائے اور اس کے رنگ وبو کا اثر بھی ختم ہوجائے تو اس سے بھی فرش پاک ہو جاتا ہے ،مگر مسجد کی تطہیر میں حتی الامکان جلدی کرنا چاہئے ،اس لئے فرش کو دھوکر پاک کیاجائے ،بالٹی یاپائپ کے ذریعہ مسلسل پانی ڈالکر نجاست کے اثر کوختم کردیاجائے تو پاک ہو جائے گا ۔ قالین وغیرہ تین دفعہ دھونے سے پاک ہوجا ئے گا ،اس طرح کہ ہر دفعہ قطرہ ٹپکنا بند ہوجائےاگر نچوڑنا دشوار ہو، اور اگر نچوڑنا دشوار نہ ہو تو تین بار نچوڑنا بھی ضروری ہے،یہ تفصیل اس وقت ہے جبکہ کسی برتن یا چھوٹے حوض ڈالکر دھویاجائے۔اگر اوپر سے پانی ڈالا یابہتے پانی میں ڈالدیا تو نہ تین دفعہ دھونا شرط ہے اور نہ نچوڑنا،بلکہ یوں اندازہ لگایاجائے کہ اگر برتن میں پانی بھر کر اس میں کپڑا ڈالا جاتا تو جتنے پانی میں کپڑا ڈوب جاتا اس سے تین گنا پانی بہادینے سے کپڑا پاک ہوجائے گا ۔

حوالہ جات

الدر المختار للحصفكي (1/ 335) (و) تطهر (أرض) بخلاف نحو بساط (بيبسها) أي جفافها ولو بريح (وذهاب أثرها كلون) وريح (ل) أجل (صلاة) عليها (لا لتيمم) بها، لان المشروط لها الطهارة وله الطهورية. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 333) قال فی التنویر؛ وقدربغسل وعصر ثلاثا فيما ينعصر و قدر بتثليث جفاف اي انقطاع تقاطرفي غيره قال العلامة الحصکفی رحمہ اللہ ؛ وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار. وقال ابن عابدین رحمہ اللہ (قوله: أو صب عليه ماء كثير) أي: بحيث يخرج الماء ويخلفه غيره ثلاثا؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر هو الصحيح سراج.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔