021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگرمؤذن بغیرخدمت کے تنخواہ لےاوراس کابھائی امام ہوکراس کی طرف داری کرے تواس کی امامت کاحکم
..نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

ہم تمام نمازی ایک مشکل میں مبتلاہیں ،ہماری مسجد کے امام صاحب جوکہ خطیب بھی ہیں اورامام بھی ،وہ سرکاری تنخواہ محکمہ اوقاف سے وصول کرتے ہیں ،ان کے بھائی جوکہ بہت بڑے تاجراوربزنس مین ہیں ،ان کوان کے بھائی نے مسجد میں مؤذن بھرتی کروایا،جبکہ تاجرصاحب جوکہ مؤذن اورخادم ہیں ،مسجد کی کوئی خدمت سرانجام نہیں دیتے ،اورخطیب صاحب سے جب استدعاء کرتے ہیں کہ مسجد میں خادم کی ضرورت ہے ،مؤذن صاحب خدمت اوراذان کیوں نہیں دیتے ،خطیب صاحب کہتے ہیں کہ میرابھائی مؤذن تمام تنخواہ اس مسجد کی خدمت کے طورجمع کروادیتاہے ،لیکن مسجد کی کوئی خدمت نہیں کرتا جس پربہت سے نمازی مسجد چھوڑگئے اورایک کثیرتعداد مولوی صاحب سے تنگ بھی ہے ،اورپریشان وناراض بھی ہے ،لیکن مولودی صاحب پرکوئی اثر نہیں آیا،ہماراسوال یہ ہے کہ خطیب صاحب جوکہ اس سارے معاملے کے ذمہ دارہیں ،ان کی اقتداء میں نمازپڑھناجائزہے ؟جب کہ دل مطمئن نہیں ہوتا،ازراہ کرم ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ہم کیاکریں جب کہ انتظامیہ پرہمارابس نہیں چلتا،ہم انتہائی مجبورہیں ہم پررحم کریں ۔

o

اہل محلہ سب مل کر امام اورمؤذن کوسمجھانے کی اپنی پوری کوشش کریں ،اگراپنی مکمل کوشش کے باوجود نہیں مانتے توچونکہ اوقاف کی مساجد براہ راست اوقاف کے تحت ہوتی ہیں اس لئے اس کی درخواست اوقاف میں دی جائے تاکہ اصلاح کی کوئی صورت پیداہوجائے،اوقاف پر لازم ہوگا کہ امام مسجد کوسمجھائیں اورمؤذن جس کی تقرری خدمت کے لئے بھی ہے اس کی اچھی طرح نگرانی کریں اگروہ واقعۃ خدمت نہیں کرتاتواس کوہٹاکرکسی اورکولگائیں، اسی طرح امام صاحب کوبھی چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کوسمجھائے ،لیکن اگروہ سمجھانے کے بجائے خودبھی بھائی کی طرف داری کرتاہے تواس کایہ فعل جائزنہیں ہے ،لیکن اس فعل سے امام کی امامت پرکوئی فرق نہیں پڑےگا، امام کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں ،اگرکسی کادل مطمئن نہیں ہوتاتووہ کسی اورجگہ پڑھ لے۔

حوالہ جات

"الھندیہ " 1/53 : ینبغی ان یکون المؤذن رجلا عاقلا صالحاتقیاعالمابالسنۃ ویکرہ اذان الفاسق ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔