021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھیک مانگنے کوپیشہ بناناجائزنہیں
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

1. آج کل ہمارے معاشرے میں بھیک مانگنے کارواج عام ہوتاجارہاہے ،کوئی زمین پرلیٹ کرکوئی ہاتھوں پیروں پرپلاسٹک چڑھاکرغرض مختلف طریقوں سے خودکواپاہج ظاہرکرکے بھیک مانگتے ہیں کیااس طرح کرنادرست ہے ؟ 2. بہت سے غیرمسلم خودکومسلمان ظاہرکرکے بھیک مانگتے ہیں ان کودینے کاحکم ؟ 3. بھیک مانگنے کوپیشہ بناناکیساہے ؟ 4. مساجد کی انتظامیہ ان کومساجد میں آنے سے روک سکتی ہے ؟ o

o

1،3.مجبوری کی حالت میں بھوک ختم کرنے اورکسی واقعی حاجت کو پوراکرنے کے لئے کوئی بھیک مانگ لے تواس کی گنجائش ہے ،لیکن اس کوپیشہ بنالیناکسی طرح بھی درست نہیں ۔ بہتریہ ہےکہ بھکاری کودینے سے پہلے تحقیق کرلی جائے کہ واقعی مستحق ہے یانہیں اگرکسی کے بارے میں معلوم ہوکہ یہ واقعی پیشہ وربھکاری ہے تواس کودیناجائزنہیں ،لیکن اگردینے کے بعد معلوم ہواکہ مستحق نہیں تھاتودینے والے کوثواب مل جائے گا۔ شریعت میں ہرشخص کواپنی اپنی ذمہ داری بتائی گئی ہے ،مانگنے والامانگنے سے پرہیز کرے اورجس سے مانگاجائے وہ موقع دیکھ کرخرچ کرے، سائل کوجھڑکے بھی نہیں، کیامعلوم مستحق ہی ہواورغوروفکربھی کرے حاجت مندوں کوتلاش بھی کرے ۔ جن لوگوں کوسوال کی عادت ہوتی ہے وہ مانگتے رہتے ہیں ،مال جمع کرتے رہتے ہیں دنیامیں توسوال کرنے والے بے آبروہوتے ہی ہیں ،قیامت کے دن بھی بے آبروہوں گے، احادیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ جس نے لوگوں سے ان کے مالوں کاسوال اس لئے کیاکہ مال زیادہ جمع ہوجائے تووہ آگ کے انگاروں کاسوال کرتاہے جودوزخ میں اسے ملیں گے ،ب چاہے کم کرے یازیادہ کرے ۔ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایاکہ انسان دنیامیں برابرسوال کرتارہتاہے یہاں تک کہ وہ قیامت میں اس حال میں آئے گاکہ اس کے چہرہ پرگوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی ۔(صحیح بخاری ج 1ص199) اس کاچہرہ دیکھ کرلوگ سمجھ لیں گے کہ یہ دنیامیں سائل تھاوہاں اپنے چہرے کی آبروکھوئی تویہاں بھی اسی کاظہورہوا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ غنی کواورٹھیک ٹھاک بدن والے قوی آدمی کوسوال کرناحلال نہیں ہے الایہ کہ ایسامجبورہے کہ تنگدستی نے اسے مٹی میں ملارکھاہے یعنی زمین کی مٹی کے سوااس کے پاس کچھ نہ ہو،یاقرضے میں مبتلاہوگیاہوجوذلیل کرنے والاہواورجس شخص نے مال زیادہ کرنے کے لئے لوگوں سے سوال کیاتواس کامال قیامت کے دن اسکے چہرہ سے اس طرح ظاہرہوگاکہ اس کاچہرہ چھلاہواہوگااوریہ مال آگ سے بناہواہوگاجس کوجہنم سے لے کرکھاتاہوگااب جی چاہے توکمی کرے اورچاہے توزیادتی کرے۔(مشکاۃ ص163) .2غیرمسلم اگرمستحق ہوتواس کوبھی بھیک دی جاسکتی ہے ۔ .3مساجد کی انتظامیہ پرلازم ہے کہ پیشہ وربھکاریوں کومسجد میں مانگنے سے روکیں ۔

حوالہ جات

" حلبی کبیر" /612: وعلم مماتقدم حرمۃ السؤال فی المسجد لأنہ کنشدان الضالۃ والبیع ونحوہ وکراھۃ الاعطاء لأنہ یحمل علی السؤال وقیل لااذالم یتخط الناس ولم یمر بین یدی المصلی والأول احوط۔ "الدرالمختار" 2/354: ولایحل أن یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کالصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ۔ "حاشية رد المحتار " 2 / 389: (ولا يحل أن يسأل الخ) قيد بالسؤال لان بدونه لا يحرم.بحر.وقيد بقوله: شيئا من القوت لان له سؤال ما هو محتاج إليه غير القوت كثوب. شرنبلالية.وإذا كان له دار يسكنها ولا يقدر على الكسب قال ظهير الدين: لا يحل له السؤال إذا كان يكفيه ما دونها.معراج. ثم نقل ما يدل على الجواز وقال: وهو أوسع، وبه يفتى. قوله: (كالصحيح المكتسب) لانه قادر بصحته واكتسابه على قوت اليوم.بحر. قوله: (ويأثم معطيه الخ) قال الاكمل في شرح المشارق: وأما الدفع إلى مثل هذا السائل عالما بحاله فحكمه في القياس الاثم به لانه إعانة على الحرم، لكنه يجعل هبة وبالهبة للغني أو لمن لا يكون محتاجا إليه لا يكون آثما اه۔ "الھندیۃ" 1 /190 : اذاشک وتحری فوقع فی اکبررأیہ انہ محل الصدقۃ فدفع الیہ اوسأٌل منہ فدفع اورآہ فی صف الفقراء فدفع فان ظھرمحل الصدقۃ جازبالاجماع وکذاان لم یظھرحالہ عندہ ۔ "سنن الترمذي " 3 / 43: حدثنا علي بن سعيد الكندي حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن عامر الشعبي عن حبشي بن جنادة السلولي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في حجرة الوداع وهو واقف في عرفة أتاه أعرابي فأخذ بطرف ردائه فسأله إياه فأعطاه وذهب فعند ذلك حرمت المسألة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن المسألة لا تحل لغني ولا لذي مرة سوي إلا لذي فقر مدقع أو غرم مفظع ومن سأل الناس ليثري به ماله كان خموشا في وجهه يوم القيامة ورضفا يأكله من جهنم ومن شاء فليقل ومن شاء فليكثر۔ "کنزالعمال" 8/315 : عن ابن عمر ان عمر نہی عن اللغط فی المسجد وقال ان مسجدناھذالاترفع فیہ الاصوات ۔ "صحیح البخاری" 1/200 : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس المسکین الذی یطوف علی الناس تردہ اللقمۃ واللقمتان والتمرۃ والتمرتان ولکن المسکین الذی لایجد غنی یغنیہ ولایفطن بہ فیتصدق علیہ ولایقوم فیسأل الناس ۔ "سنن الترمذي " 3 / 42: حدثنا أبو بكر محمد بن بشار حدثنا أبو داود الطيالسي حدثنا سفيان بن سعيد ح وحدثنا محمود بن غيلان حدثنا عبد الرزاق أخبرنا سفيان عن سعد بن إبراهيم عن ريحان بن يزيد عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تحل الصدقة لغني ولا ذي مرة سوي ۔ "صحيح البخاري" 2 / 536: حدثنا يحيى بن بكير حدثنا الليث عن عبيد الله بن أبي جعفر قال سمعت حمزة بن عبد الله بن عمر قال سمعت عبد الله بن عمر رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم ( ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم )۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔