021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق رجعی دےکر رجوع کیاپھرکہا”تم فارغ ہو:
..طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کومعمولی سی بات پرکہاکہ تمہیں طلاق دیتاہوں ،تھوڑی دیر کے بعد آکرکہاکہ میں نے تم سے رجوع کیا۔ کچھ عرصے بعد پھرکوئی بات ہوئی تواس نے کہاکہ تم فارغ ہو،پھروہ شخص اپنی بات سے منکر ہوگیاکہ میں نے نہیں کہا،بیوی کے اصرار پروہ مان گیاکہ ہاں میں نے کہاہے ،لیکن میری طلاق کی نیت نہیں تھی ،کچھ عرصے بعد پھرجھگڑاہواتواس شخص نے بیوی کومارنے کے بعد کہاکہ میراتم سے کوئی واسطہ نہیں ہے ،پھراس کے بھائی کوبلاکرکہاکہ اسے لے جاؤ، تھورڑی دیربعد اپنی سا س سے آکرکہاکہ میراسمیہ سے کوئی واسطہ نہیں ہے، اس نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے ،جب اس کی ساس نے وضاحت مانگی تووہ دوسرے کمرے میں چلاگیا،جانے سے پہلے اس نےیہ بھی کہاکہ میں اپنے بچوں کوخودسنبھال لوں گایاپھرکوئی آیارکھ لوں گا، کچھ دنوں کے بعد وہ اپنی بیوی سے ملنے پہنچ گیا،اس کے سا س سسرنے کہاتم نے یہ الفاظ کہے تھے وہ پھرانکاری ہوگیاکہ میں نے نہیں کہا،لیکن ان کے اصرارپرپھرمان گیاکہ ہاں میں نے کہاتھا،لیکن میراطلاق کامقصد نہیں تھا،اب وہ شخص تقریبانوماہ کے بعد اپنی بیوی کوگھرلے جاناچاہتاہے، پوچھنایہ ہے کہ اس شخص کے ان الفاظ سے طلاق واقع تونہیں ہوتی ؟

o

صورت مسئولہ میں شوہرنے پہلی بار صریح الفاظ سے ایک طلا ق دی ،پھر رجوع کرلیا،اسکے بعد شوہر نے بیوی سے تم فارغ ہوکے الفاظ کہے،شوہر کے اہل علاقہ سے معلوم ہواکہ شوہر کے علاقے وعرف میں فارغ کالفظ طلاق بائن کےلئے استعمال ہوتاہے، اس لئے اس سے ایک اورطلاق بائن واقع ہوچکی ہے ،شوہرکاقول کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی ،اس کااعتبارنہیں ہوگا۔ اس کے بعد کے الفاظ ( میراتم سے کوئی واسطہ نہیں،اسے لے جاؤ،میراسمیہ سے واسطہ نہیں) یہ الفاظ کنایہ ہیں ،ان میں نیت ہوتوطلاق ہوتی ہے ورنہ نہیں لیکن صورت مسئولہ میں چونکہ پہلے بائنہ واقع ہوچکی ہے اوربائنہ کے بعد بائنہ واقع نہیں ہوسکتی ،اس لئے ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ شوہراب بھی تجدید نکاح کرکے عورت کے ساتھ زندگی گزارسکتاہے ،لیکن شوہر کو چاہئے کہ الفاظ طلاق یاایسے الفاظ جوطلاق کے مشابہ ہوں ان کے استعمال سے مکمل طورپرپرہیز کرے ،ورنہ اگرتیسری طلاق پڑگئی تو عورت مکمل طورپراس پر حرام ہوجائے گی اوراس حالت میں دوبارہ نکاح بھی نہ ہوسکے گا۔ حدیث شریف میں آتاہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے ،اس لئے اس سے بہرصورت اجتناب کرناچاہئے ،ہاں اگربہت زیادہ مجبوری ہواورمیاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت نہ ہوتوپھر مجبوری میں طلاق دینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

"الھندیۃ" /375 : وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینک عمل ونوی یقع ۔ " الھندیۃ " 1/377: وفی الھندیۃ والطلاق البائن یلحق الطلاق الصریح بأن قال انت طالق ثم قال لہاانت بائن طلقہ اخری ولایلحق البائن البائن۔ "ردالمحتار" 3/308 : واذاطلقھاتطلیقۃ بائنۃ ثم قال لھافی عدتھاانت علی حرام اوخلیۃ اوبریۃ اوبائن اوبتۃ اوشبہ ذالک وھویرید بہ الطلاق لم یقع علیھاشیئ لانہ صادق فی قولہ علی حرام وھی منی بائن ای لأنہ یمکن جعل الثانی خبرامن الاول وظاھرقولہ طلقھاتطلیقۃ بائنۃ ان المراد بہ الصریح البائن بقرینۃ مقابلتہ بالفاظ الکنایۃ تامل ۔ "رد المحتار" 11 / 166: باب الكنايات ( كنايته ) عند الفقهاء ( ما لم يوضع له ) أي الطلاق ( واحتمله ) وغيره ( ف ) الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب ، فالحالات ثلاث : رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب ، أو لا ولا ( فنحو اخرجي واذهبي وقومي ) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة ( يحتمل ردا ، ونحو خلية برية حرام بائن ) ومرادفها كبتة بتلة ( يصلح سبا ، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك ، أنت واحدة ، أنت حرة ، اختاري أمرك بيدك سرحتك ، فارقتك لا يحتمل السب والرد ، ففي حالة الرضا ) أي غير الغضب والمذاكرة ( تتوقف الأقسام ) الثلاثة تأثيرا ( على نية ) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله ، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى . ( وفي الغضب ) توقف ( الأولان ) إن نوى وقع وإلا لا ( وفي مذاكرة الطلاق ) يتوقف ( الأول فقط ) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة ، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية ، ثم في كل موضع تشترط النية فلو السؤال بهل يقع بقول نعم إن نويت ، ولو بكم يقع بقول واحدة ولا يتعرض لاشتراط النية بزازية فليحفظ ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔