021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سلینڈرکی سیکوریٹی کے طورپررقم رکھنا
55777خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

کیافرماتےہیں علماء رکرام مفتیان حضرات اس مسئلہ کے بارے میں کہ آجکل لوگ بازارمیں دکاندار سے سلینڈر لیتے ہیں ،گاہگ گیس کی قیمت دیتاہے ،جبکہ سلینڈر گاہگ کے پاس امانت ہوتی ہے ،گاہگ سلینڈر والے کے پاس سلینڈر کے عوض کچھ رقم جمع کرتاہے ،جس کوسیکوریٹی کہتے ہیں ، یہ سلسلہ جاری رہتاہے ،جب معاملہ ختم کیاجاتاہے توسلینڈر والاسیکوریٹی کی رقم گاہگ کوواپس دیتاہے ،پوچھنایہ ہے کہ یہ صورت جائزہے یانہیں ؟

o

اصولی لحاظ سے تو سیکوریٹی کے طورپررقم رکھناشرعاجائزنہیں ،کیونکہ یہ شرعی عقود میں سے کسی عقد کے تحت داخل نہیں ،لیکن آج کل چونکہ اس کااتناعام عرف ہوچکاہے کہ سلینڈرکرایہ پردینااورمکان ودکان سمیت تمام بڑے معاملات اس کے بغیر نہیں ہوتے ،نیز کرایہ وغیرہ کے معاملات میں جانبین سے بے اعتمادی اورروزمرہ کی خیانت کے واقعات کے سدباب کی خاطر ضرورت بھی ہے ،سیکوریٹی عام طورپر اس لئے رکھی جاتی ہے کہ اگرگاہگ نے جوچیز کرایہ پرلی ہےوہ واپس نہ کرے تواس کاکچھ نہ کچھ عوض دکاندار کے پاس ہویااس میں کچھ نقصان ہوجائے تواس رقم میں سے کٹوتی ہوسکے ،گاہگ کی طرف سے اس کی اجازت ہوتی ہے کہ مالک اس سیکوریٹی کی رقم کواپنے اموال میں ملاکراس کاضمان قبول کرے ،جس کے نتیجے میں وہ قرض بن جاتاہے، اس میں یہ شرط اتنی متعارف ہوگئی ہے کہ اس بغیر کوئی اجارہ نہیں ہوتا،اورحنفیہ کااصول ہے کہ جوشرط مقتضائے عقد کےخلاف ہو،عرف اورتعامل کی وجہ سے وہ جائزہوجاتی ہے لہذاضرورت کے پیش نظر اورعرف کے قائم ہونے کی بناء پرسیکوریٹی کی ادائیگی اوراس کے تحت معاملہ کرنے کی اجازت ہے ،البتہ اس رقم سے کٹوتی یااس کاظبط کرنااس وقت جائزہوگا،جب خریدار ثابت نہ کرسکے کہ سلینڈرکوجونقصان ہواہے ،اس میں اس کی غفلت اورشرائط کی خلاف ورزی شامل نہیں ،اگروہ یہ ثابت کرلے تواس کوپوری رقم واپس کرنالازم ہوگا۔

حوالہ جات

" رد المحتار علی الدرالمختار" 5 / 87،88: أوجری العرف بہ کبیع نخل علی أن یحذوہ البائع ویشرکہ أی یضع علیہ الشراک وھو السیر ومثلہ تسمیرالقبقاب استحساناللتعامل بلانکیر۔ قولہ للتعامل أی یصح البیع ویلزم الشرط استحساناللتعامل ،والقیاس فسادہ لأن فیہ نفع لاحدھماوصارکصبغ الثوب ،مقتضی القیاس منعہ لأنہ اجارۃ عقدت علی استہلاک عین الصبغ مع المنفعۃ ولکن جوز للتعامل ۔ قلت وتدل عبارۃ البزازیۃ والخانیۃ ،وکذامسئلۃ القبقا ب علی اعتبارالعر ف الحادث ومقتضی ھذاأنہ لوحدث عرف فی شرط غیرالشرط فی النعل والثوب والقبقاب ان یکون معتبرااذالم یؤد الی المنازعۃ ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔