021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی شخص کو نبی کادرجہ دینا
..ایمان وعقائدکفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان

سوال

١۔ایک شخص مثلا زید دوسرے شخص مثلا خالد کے متعلق کسی ذاتی رنجش کی بناء پر کہتا ہے کہ خالد اپنی قوم کا نبی ہے اور اس کی برادری اس کی پیروی کرتی ہے ۔حالانکہ خالدکا نظریہ اس طرح کا ہر گز نہیں ہے ،اگر الفاظ زید خالد کے بارے میں حقیقتا بغیر مزاح کے کہے تب کیا حکم ہے؟ اور اگر استہزاء کہے تب کیا حکم ہے؟ کیونکہ وہ منصب نبوت کو غیر کے لئے ثابت کرہا ہے ، ١،مذکورہ الفاظ اگر مجلس میں کہے تو معافی تلافی کس طرح ہوگی ،۲ اس کی ازدواجی اور ایمانی حالت پر کوئی حکم لگے گایانہیں؟ الجواب باسم ملہم الصواب

o

١،۲۔ رسول اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخص کو حقیقتا اعتقادا نبی کہنا کفر ہے ،ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے،اس پر تجدید ایمان ونکاح ضروری ہے ، لیکن صورت مسئولہ میں زید نےاعتقاداخالد کو نبی سمجھ کر یہ جملہ نہیں کہا ہے، بلکہ ذاتی رنجش کی وجہ سے بظاہر خالد کے متکبر ہونےکی وجہ سے ایسا کہا ہے ،اس طرح کا جملہ کسی کے حق میں استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں نبی کی توہین ہے اور کفر کاخطرہ ہے، تاہم اس جملہ کی وجہ سے زید کوکافر مرتد قرار نہیں دیاجائے گا ، لہذا زید پرلازم ہےکہ توبہ استغفار کرے احتیاطا تجدید ایمان اور نکاح کرے، اور آئندہ اس طرح کا جملہ استعمال کرنے سے پرہیز کرے۔

حوالہ جات

ولوقال لمسلم اجنبی یا کافر اولاجنبیة یا کافرہ ولم یقل المخاطب شیئا ،کان الفقیہ ابوبکر الاعمش یقول ،یکفر ھذا القائل ،وقال غیرہ من مشایخ بلخ ،لایکفر،،،،،والمختار للفتوی فی جنس ھذہ المسائل ان القائل بمثل ھذہ المقالات ان کان اراد الشتم ولا یعتقدہ کافرا لایکفر،وان کان یعتقدہ کافرا،فخاطبہ بھذا بناء علی اعتقادہ انہ کافریکفر۔﴿فتاوی تتارخانیہ:8/513،514﴾ اذا لم یعرف الرجل ان محمدا صلی اللہ علیہ وسلم آخر الانبیاء علیھم وعلی نبیناالسلام فلیس بمسلم کذا فی الیتیمہ اھ فتاوی عالمگریہ / ج۲ البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 134) وفي الخلاصة وغيرها إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل حينئذ وفي التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية ومع الاحتمال لا نهاية اهـ. والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔