021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی نے دوجگہ سفر کی نیت کی توقصر کی تفصیل
..نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

ایک شخص مردان شہرگیا،وہاں وہ مردان کے کسی شہری علاقہ میں گیا،اوراس نے وہاں 13 دن رکنے کی نیت کی اور13 دن گزارکروہ شخص پھرمردان کے دیہی علاقے میں گیا،اوروہاں بھی اس نے 13 دن ٹہرنے کاارادہ کیااور 13 دن گزارنے کے بعد مذکورہ شخص دوبارہ مردان کے اسی پہلے والے شہری علاقہ میں آیااوراب یہاں گیارہ دن ٹہرنے کی نیت ہے تومذکورہ شخص ان تینوں مقامات میں جومجموعی طورپر 37 دن رہاان 37 دن کے پورے عرصے میں شخص مذکور مقیم کہلائے گااورنمازیں پوری پڑھے گایاشخص مذکور 37 دن کے عرصہ میں مسافرکہلائے گا،اورنمازوں میں قصرکرے گا،نیز کراچی ،پشاور ،اورلاہور وغیرہ میں بھی صورت مسئولہ کاکیاحکم ہوگا؟؟

o

اگرکسی نے دوجگہوں میں سفر کاارادہ کیااوردونوں جگہ مستقل حیثیت رکھتی ہوں ،کوئی ایک دوسری کے تابع نہ ہوتومسافر ہوگا،اوراگرایک جگہ دوسری کے تابع ہوتودونوں جگہوں میں مقیم ہوگا۔اس اصول کی روشنی میں شہروں کے ایسے مضافاتی دیہات جن سے شہر کے مصالح متعلق ہوں (جیسے کسی دیہات میں شہر کی چراگاہ یاقبرستان وغیرہ ہو)شہرہی کے تابع ہیں اوراسی کے حکم میں ہیں ۔ چنانچہ ایسے دیہاتوں میں جمعہ بھی واجب ہے ،اورشہر اورایسے دیہاتوں میں ایک ساتھ پندہ دن یاس سے زائد قیام کی نیت کی جائے توپوری نماز پڑھناہوگی ،اورجودیہات اس طریقے سے شہر کے ساتھ متصل اورمتعلق نہ ہوں ،مثلاشہر اوردیہات میں دریاہویاکھیتوں وغیرہ کابڑافاصلہ ہوجورہائشی آبادی کوالگ کرتاہواوراس دیہات سے شہر کی کسی مصلحت کاتعلق نہ ہو،تووہ مستقل جگہ کے حکم میں ہے ،اورشہر کے تابع نہیں ،لہذاان میں اورشہر میں الگ الگ قیام کی نیت کااعتبارہوگا۔ اس تفصیل کے مطابق اگرمسئولہ صورت میں مردان کادیہاتی علاقہ شہری علاقہ سےمتعلق اوراس کی متعلقہ مضافات میں داخل تھاتویہ شخص مقیم ہوگا،اوراگریہ علاقہ شہرسے بالکل الگ تھاتو یہ شخص مسافر ہوگا۔

حوالہ جات

"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر" 1 / 241: ولو نواها أي الإقامة بموضعين كمكة ومنى لا يصير مقيما إلا أن يبيت بأحدهما لأن إقامة المرء تضاف إلى مبيته هذا إذا كان كل من الموضعين أصلا بنفسه وإن كان أحدهما تبعا لآخر قريبا من المصر بحيث تجب الجمعة على ساكنه فإنه يصير مقيما فيهما بدخول أحدهما أيهما كان لأنهما في الحكم كموطن واحد كما في التبيين ۔ "ردالمحتارعلی الدرالمختار" 6 / 1: ( قوله أو نوى فيه ) أي في صالح لها ( قوله بموضعين مستقلين ) لا فرق بين المصرين والقريتين والمصر والقرية بحر۔ "ردالمحتارعلی الدرالمختار" 6 / 2: ( قوله أو كان أحدهما تبعا للآخر ) كالقرية التي قربت من المصر بحيث يسمع النداء على ما يأتي في الجمعة وفي البحر لو كان الموضعان من مصر واحد أو قرية واحدة فإنها صحيحة لأنهما متحدان حكما ألا ترى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر ۔ "حاشیۃ علی مختصرالقدوری " 152 : ففی کل موضعین احدھما تبع للآخر بان کانت القریۃ قریبۃ من المصر بحیث تجب الجمعۃ علی ساکنھافانہ یصیر مقیما ،فیتم بدخول احدھما الخ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔