021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت احرام میں عورت کانوں کوچھپائے گی ۔
..حج کے احکام ومسائلاحرام اور اس کے ممنوعات کا بیان

سوال

مسائل حج میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ مردوعورت اپنے چہرے کونہ ڈھانپیں۔ ۱۔سوال یہ ہے کہ عورت ممکنہ اسکارف پہنتے وقت کانوں کوچھپائے گی یانہیں ؟ کیونکہ اگر کانوں کوچھپاتی ہے جیساکہ معروف ہے توچہرے کاایک مختصر ساحصہ بھی چھپ جاتاہے اورپھروہ ممکنہ اس بیاض ہی پرنہیں رک جاتاجس کے حدچہرہ میں داخل ہونے میں اختلاف ہے بلکہ نقل وحرکت کی وجہ سے تھوڑاآگے کوکھسک جاتاہے تواس صورت میں عورت صدقہ واجب ہوگایانہیں خواہ بارہ گھنٹے سے کم ہویازیادہ ؟

o

عورت احرام میں کانوں کوچھپائے گی ،لیکن اس کی کوشش کرے کہ کپڑاچہرے سے نہ لگے ،اگرچہرہ پرکپڑالگ گیااور چہرہ کاچوتھائی حصہ یاچوتھائی سے زیادہ ایک دن یاایک رات ڈھانکاتودم واجب ہوگا،اورچوتھائی سے کم یاایک دن ایک رات سے کم(ایک گھنٹہ یااس سے زیادہ ڈھانکاتونصف صاع (پونے دوسیرجوکلو کے اعتبارسے ایک کلو 644 گرام بنتے ہیں )صدقہ واجب ہوگا،اورعذر سے ڈھانکاتوپہلی صورت میں اختیارہے کہ دم دے یاتین صاع چھ مسکینوں پرصدقہ کرے یاتین روزے رکھے اوردوسری صورت میں نصف صاع ایک مسکین کوصدقہ دے یاایک دن روزہ رکھے ،اس طرح ایک گھنٹہ سے کم ڈھانکاتوبہتر یہ ہے کہ نصف صاع صدقہ دے ،اگراس میں حرج ہورہاہو توایک مٹھی گندم کے بقدرصدقہ دے ۔

حوالہ جات

"ردالمحتار" 2/220 : قولہ وفی الأقل صدقۃ وشمل الاقل الساعۃ الواحدۃ ای الفلکیۃ ومادونہاخلافالمافی خزانۃ الاکمل انہ فی ساعۃ نصف صاع وفی اقل من ساعۃ قبضۃ من بر اھ بحر ،ومشی فی اللباب علی مافی الخزانۃ واقرہ شارحہ واعترض بمخالفتہ لماذکرہ الفقہاء ۔ "رد المحتار" 8 / 403: ( أو لبس مخيطا ) لبسا معتادا ، ولو اتزره أو وضعه على كتفيه لا شيء عليه ( أو ستر رأسه ) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه ( يوما كاملا ) أو ليلة كاملة ، وفي الأقل صدقة ( والزائد ) على اليوم ( كاليوم ) وإن نزعه ليلا وأعاده نهارا ولو جميع ما يلبس ( ما لم يعزم على الترك ) للبسه ( عند النزع ، فإن عزم عليه ) أي الترك ( ثم لبس تعدد الجزاء كفر للأول أو لا ، وكذا ) يتعدد د الجزاء لو لبس یومافأراق دما للبسہ ثم دام علی لبسہ يوما آخر فعليه الجزاء ) أيضا لأنه محظور فكان لدوامه حكم الابتداء ، ودوام اللبس بعدما أحرم وهو لابسه كإنشائه بعده ولو مكرها أو نائما ، ولو تعدد سبب اللبس تعدد الجزاء ، ولو اضطر إلى قميص فلبس قميصين أو إلى قلنسوة فلبسها مع عمامته لزمه دم وأثم ؛ ولو تيقن زوال الضرورة فاستمر كفر أخرى وتغطية ربع الرأس أو الوجه كالكل ولا بأس بتغطية أذنيه وقفاه ووضع يديه على أنفه بلا ثوب۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔