021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تکبیرات تشریق کہنے کی وجہ ؟
..نماز کا بیان تکبیرات تشریق کا بیان

سوال

۹ذی الحجہ سے ۱۳ ذی الحجہ تک ایام تشریق کی تکبیرات کیوں کہتےہیں ،اسکی وجہ کیاہے ؟اوراگرکوئی فرض نماز کے بعد پڑھنابھول جائے تواس کاکفارہ کیاہے کیاسنت کے بعدبھی پڑھ سکتے ہیں ؟اگرفرض کے بعد بھول جائیں یاجب یاد آئے توکہہ لیں اورکتنی بارتکبیر فرض ہے؟

o

تکبیرات تشریق اس لئے کہی جاتی ہے کہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالی کاحکم ہے کہ ان دنوں میں اللہ تعالی کاذکرکرواوروجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ ان دنوں میں اسلام کارکن فریضہ حج کی ادئیگی ہوتی ہے ،اورحجاج کرام تلبیہ پڑھتے ہوئے اللہ کی عظمت ووحدانیت بیان کرتے ہیں ،عام لوگ چونکہ حج میں نہیں ہوتے ،توان کے لئے تکبیرات تشریق کاحکم ہے تا کہ وہ بھی حجاج کرام کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے ان دنوں میں خاص طورپراللہ کی عظمت وکبریائی بیان کرتے رہیں ۔ تکبیرات تشریق ہرفرض نماز کے بعد مسلمان مرد،عورت،مسافر ،مقیم شہری ،اوردیہاتی پریکساں واجب ہیں ،فرض جماعت سے اداء کرے یابغیر جماعت کے نمازکے بعد جب تک مسجد کے اند رہو،کوئی بات نہ کی ہواورطہارت پرباقی ہو،یادآجائے توپڑھ لی جائیں ،اوراگربالکل بھول گیاتو ساقط ہوجائیں گی اورکوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"رد المحتارعلی الدرالمختار" 6 / 175: ( ويجب تكبير التشريق ) في الأصح للأمر به ( مرة ) وإن زاد عليها يكون فضلا قاله العيني .صفته ( الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد ) هو المأثور عن الخليل ۔۔۔( عقب كل فرض ) ۔۔۔۔۔۔( على إمام مقيم ) بمصر ( و ) على مقتد ( مسافر أو قروي أو امرأة ) بالتبعية لكن المرأة تخافت ويجب على مقيم اقتدى بمسافر ( وقالا بوجوبه فور كل فرض مطلقا ) ولو منفردا أو مسافرا أو امرأة لأنه تبع للمكتوبة ( إلى ) عصر اليوم الخامس ( آخر أيام التشريق وعليه الاعتماد ) والعمل والفتوى في عامة الأمصار وكافة الأعصار۔ "رد المحتارعلی الدرالمختار" 6 / 178: ( قوله للأمر به ) أي في قوله تعالى { واذكروا الله في أيام معدودات } وقوله تعالى {ويذكروا اسم الله في أيام معلومات } على القول بأن كليهما أيام التشريق ، وقيل المعدودات أيام التشريق والمعلومات أيام عشر ذي الحجة وتمامه في البحر ( قوله وإن زاد إلخ ) أفاد أن قوله مرة بيان للواجب ۔ "رد المحتارعلی الدرالمختار" 6 / 180: فلو خرج من المسجد أو تكلم عامدا أو ساهيا أو أحدث عامدا سقط عنه التكبير ۔ " مراقي الفلاح "1 / 410: وقالا أي أبي يوسف ومحمد رحمهما الله يجب التكبير فور كل فرض على من صلاه ولوكان منفردا أو مسافرا أو قرويالأنه تبع للمكتوبة من فجر عرفة إلى عقب عصراليوم الخامس من يوم عرفةفيكون إلى آخر أيام التشريق وبه أي بقولهما يعمل وعليه الفتوى۔ "البحرالرائق "1/166 : واماعندھمافھوواجب علی کل من یصلی المکتوبۃ لانہ تبع لہافیجب علی المسافر والمرأۃ والقروی ،قال فی السراج الوھاج والجوھرۃ والفتوی علی قولہمافی ھذاایضافالحاصل ان الفتوی علی قولہمافی آخروقتہ وفی من یجب علیہ ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔