021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نابالغ لڑکی کانکاح والد نے کروایاہوتوخیاربلوغ نہ ہوگا۔
..نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

: بسم اللہ الرحمان الرحیم !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیافرماتے ہیں مفتیان کرام زید مجدکم اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کانکاح اس کے باپ نے کسی لڑکے سے کردیا،جبکہ اس وقت لڑکااورلڑکی دونوں نابالغ تھے ،یہ نکاح گواہوں کی موجودگی میں ہوااوراس کے باپ نے کیا،جب وہ لڑکی بالغہ ہوئی تو اس لڑکی نے اس لڑکے سے نکاح کرنے سے انکارکردیا،اب اس لڑکی نے عدالت میں ریٹ کردی ،جس کی تقریبا عدالت میں ڈیڑھ دوسال تک بات چلتی رہی ،بالآخر جج صاحب نے اس لڑکی کودوسرے لڑکے سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی ،اب اس کی رخصتی بھی ہوگئی ،اب اس مسئلہ کے بارے میں قرآن مجید وحدیث شریف کیاحکم دیتاہے ،کیالڑکی کاپہلانکاح باقی ہے یانہیں ،اگرباقی ہے تودوسرے لڑکے کے ساتھ نکاح کاکیاحکم ہوگا،اگردوسرانکاح صحیح نہیں ہواتولڑکی والوں سے تعلق رکھناکیساہے وہ ہمارےرشتہ دارہیں ،ہمارے لئے ان کی خوشی غمی اورجنازے وغیرہ میں شرکت کرناکیساہے ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

o

باپ نے نابالغ کانکاح کفومیں مہرمثل پر کروایاہواوراس میں بچی،بچے کے مصالح کوملخوظ رکھاگیاہے توبالغ ہونے کے بعدلڑکی کوخیارفسخ حاصل نہیں ہوتا، لہذااگرمذکورہ صورت ہوتو پہلانکاح برقراررہےگا ،اورپہلے نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرانکاح نہیں ہوا،لڑکی کاپہلانکاح برقرارہے،اگرلڑکی اس دوسرے لڑکےکے ساتھ رہتی ہے تویہ ناجائزاورحرام ہے ۔ اوراگرقوی قرائن سے یہ بات معلوم ہوجائے کہ باپ نے لڑکی کی مصلحت کوپیش نظر نہیں رکھا،بلکہ کسی ذاتی طمع ومفاد کے خاطریہ نکاح غیرکفو میں یاغبن فاحش کے ساتھ کروایاہے، جس میں لڑکی کانقصان بالکل ظاہرتھاتوپہلا نکاح منعقدہی نہیں ہوا،لہذادوسرانکاح درست ہوگا۔ اگرپہلی صورت ہے تولڑکی اورلڑکی والے سب گناہ گارہوں گے،ان کومسئلہ سمجھایاجائے اورڈرایاجائے کہ یہ زنااورحرام ہے، جتناجلد ہوسکے جدائی کروائی جائے،اگروہ نہ مانیں توان کے ساتھ تعلق رکھناجائز نہیں ہے،جب تک کہ وہ جدائی نہ کروادیں۔)احسن الفتاوی 8/236 (

حوالہ جات

"ردالمحتارعلی الدرالمختار"2/461: وللولی انکاح الصغیروالصغیرۃ ولوثیباولزم النکاح ای بلاتوقف علی اجازۃ احد وبلاثبوت خیارفی تزویج الاب والجد۔ "بحرالرائق" 3/120 :ولہاخیارالفسخ بالبلوغ فی غیرالاب والجد بشرط القضاء ۔ "الھندیۃ " 3/451 : ولایجوز للرجل این یتزوج زوجۃ غیرہ وکذالک المعتدۃ ۔ " بدائع الصنائع" 5 / 446: ( فصل ) : ومنها أن لا تكون منكوحة الغير ، لقوله تعالى : { والمحصنات من النساء } معطوفا على قوله عز وجل : { حرمت عليكم أمهاتكم } إلى قوله : { والمحصنات من النساء } وهن ذوات الأزواج)۔۔۔ولأن اجتماع رجلين على امرأة واحدة يفسد الفراش ؛ لأنه يوجب اشتباه النسب وتضييع الولد وفوات السكن والألفة والمودة فيفوت ما وضع النكاح له . "حاشية رد المحتار" 3 / 73: وفي شرح المجمع: حتى لو عرف من الاب سوء الاختيار لسفهه أو لطمعه لا يجوز عقده إجماعا ۔ "ردالمحتارعلی الدرالمختار" 13 / 80: ونص المذهب أنه إذا عرف الأب بسوء الاختيار مجانة أو فسقا فالعقد باطل اتفاقا صرح به في البحر وغيره۔ "ردالمحتارعلی الدرالمختار" 13 / 80: المصرح به في المتون والشروح أن للأب تزويج الصغير والصغيرة غير كفء وبدون مهر المثل بغبن فاحش ؛ لأن كمال شفقة الأب دليل على وجود المصلحة ما لم يكن سكران أو معروفا بسوء الاختيار ؛ لأن ذلك دليل على عدم تأمله في المصلحة ۔ " مشكاة المصابيح" 3 / 114: عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان " . رواه مسلم۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔