021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھیلنے والی ٹیموں سے وصول شدہ رقم کاحکم
56322جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مئلہ کے بارے میں کہ آج کل جو کرکٹ کے توڑنا منٹس منعقد کراتے ہیں ،انتظامیہ میچ میں حصہ لینے والی ٹیموں سے ایک مقدار میں رقم وصول کرتی ہے ، انتظامیہ اس میں سے کچھ رقم خود خرچ کرتی ہے ،ایک مقدار جیتنے والی ٹیم کو انعام کے طور دیتی ہے، ہار نےوالی ٹیموں کو ان کی جمع کردہ رقم واپس نہیں ملتی ، اب سوال یہ ہے اس رقم حیثیت کیا ہے ،کھلاڑیوں سے رقم وصول کرنا پھر انتظا میہ کا اپنی ذات پر خرچ کرنا اور جیتنے والی ٹیم کو انعام دینا جائز ہے یا نہیں ؟

o

سوال میں ذکرکردہ صورت میں میچ میں حصہ لینے والی ٹیموں سے رقم لیکر جیتنے والی ٹیم کو انعام دینا جوا ﴿قمار ﴾ کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے اس سے اجنتاب واجب ہے ،اور جوکھیل جوا کی شرط کے ساتھ مشروط ہو اس میں شرکت بھی ناجائز ہے ،البتہ اگر ٹیموں سے رقم وصول نہ کیجائے بلکہ کوئی تیسرا فریق اپنی طرف سے انعام کا انتظام کرے تو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ (91) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ } [المائدة: 90 - 92] رد المحتار (27/ 24) ( قوله من الجانبين ) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا ، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية ( قوله لأنه يصير قمارا ) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى ، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة ، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي ( قوله يتوهم أن يسبقهما ) بيان لقوله كفء ، لفرسيهما أي يجوز أن يسبق أو يسبق ( قوله وإلا لم يجز ) أي إن كان يسبق أو يسبق لا محالة لا يجوز لقوله صلى الله عليه وسلم " { من أدخل فرسا بين فرسين وهو لا يأمن أن يسبق فلا بأس به ومن أدخل فرسا بين فرسين وهو آمن أن يسبق فهو قمار } ، رواه أحمد وأبو داود وغيرهما زيلعي
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔