021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر قانونی جگہ پر مسجد بنانا، مسجد کی کچھ زمین کو گلی میں شامل کرنا
..وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ہماری مسجد تقریبا27 سال پہلے تھانے والوں نے بنائی تھی۔ یہ تھانہ اور مسجد دونوں غیر قانونی جگہ پر ہیں۔ یہ زمین جو کہ تقریبا دو ایکڑ پر مبنی ہے،گورنمنٹ نے پارک کے لیے الاٹ کی تھی،لیکن وہاں قائم مقام تھانہ بنایا گیا اورتھانے میں اپنے لیے مسجد بھی بنادی۔شروع میں مسجد بہت چھوٹی تھی اورنمازی بہت کم تھے۔پھراللہ کے فضل اور تبلیغ کی محنت سے نمازیوں کی تعدادمیں اضافہ ہوتا گیا۔ کچھ عرصہ بعد مسجد کے چندمخیرحضرات نے امام صاحب کے ساتھ مل کر مسجد کو وسیع کیااور مسجد میں آٹھ سو سے ہزار نمازیوں تک کی گنجائش ہو گئی۔ نمازیوں اورمسجد کمیٹی نے اپنے طورپر مسجد کے قانونی کاغذات بنوانے کی لیے کوشش کی تو جواب ملا کہ مسجد کو قانونی طور پر جگہ الاٹ نہیں کی جاسکتی۔ البتہ(KDA)کے افسران کے علم میں ہے کہ اس جگہ مسجد موجود ہےتو انہوں نے خود کہا کہ آپ حضرات مسجد میں توسیع کریں ،کوئی آپ کو منع نہیں کرے گا۔تھانے کےSHOصاحب نے اس سال رمضان میں اہل محلہ کی درخواست پر تحریری اجازت نامہ اور مسجد کا تھانے سے قطع تعلق کر دیا۔ اب چونکہ جمعہ اور عیدین میں نمازیوں کی کثیر تعداد کے باعث لوگوں کو باہر سڑک پر نماز ادا کرنی پڑتی ہے،نیز تعمیر بھی کافی ناقص ہے،اس لیے مسجد کی از سر نو تعمیر کا سوچاگیا ہےجس کا تخمینہ تقریبا دو کروڑ روپے بتایا گیاہےاور ایک صاحب اللہ کے فضل وکرم سے تیار بھی ہوگئے۔ یہ بات سامنے آئی کہ اس جگہ کسی سےاتنی بڑی رقم لگوانا جائز نہیں۔ اس لیے اب آپ سے پوچھنا یہ ہےکہ: 1. کیا ایسی جگہ مسجد بنوانا یا کسی کی اتنی بڑی رقم لگوانا جس کے قانونی کاغذات موجود نہیں ہوں(جبکہ مسجد"ST" پلاٹ پر ہے جوکہ فلاحی کاموں کے لیے ہوتا ہے،مثلا: اسکول، کالج،مسجد،پارک،ہسپتال وغیرہ )جائز ہے؟

o

یہ مسجد اگرچہ "ST" پلاٹ پر ہےجوکہ فلاحی کاموں کے لے ہوتاہے، جن میں مسجد بنانا بھی شامل ہے،لیکن بہرحال یہ گورنمنٹ کی ملکیت ہے۔اس پلاٹ پر کسی قسم کی تعمیر کے لیےگورنمنٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔یہ ایسا ہی ہےکہ کسی عام شخص کا پلاٹ ہواور لوگ اس کی اجازت کے بغیر اس میں مسجد تعمیر کرلیں۔KDA افسران کا زبانی یہ کہنا کافی نہیں کہ آپ توسیع کریں کوئی منع نہیں کرےگااور اس سے یہ مسجدِ شرعی نہیں کہلائے گی۔ اس لیےمسجد انتظامیہ اور متعلقین کو چاہیے کہ مسجد کی باقاعدہ منظوری کے لیے کوشش کریں اور اس کے بعد توسیع کریں۔ کچھ واقعات ایسے سامنے آئے ہیں کہ سالوں بعد جب گورنمنٹ کو ایسی زمین اور پلاٹ کی ضرورت پڑی یا کوئی بے دین قسم کا افسر آیا تو اس پر موجود مدارس اور مساجد کو مسمار کر دیا گیا،جس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اس لیے ابھی سے تمام قانونی تقاضوں کو پوار کرنا چاہیے،تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی،مصیبت سے بچا جاسکے۔

حوالہ جات

قال في البحر الرائق: "إذ التصرف في ملك الغير حرام حقا لله تعالى وللمالك." (ج:5,ص:180,دار الكتاب الإسلامي) و في الشاميه: "وفي شرح المنية للحلبي: بنى مسجدا في أرض غصب لا بأس بالصلاة فيه. وفي الواقعات بنى مسجدا على سور المدينة لا ينبغي أن يصلي فيه؛ لأنه من حق العامة فلم يخلص لله تعالى كالمبني في أرض مغصوبة اهـ ثم قال: ومدرسة السليمانية في دمشق مبنية في أرض المرجة التي وقفها السلطان نور الدين الشهيد على أبناء السبيل بشهادة عامة أهل دمشق والوقف يثبت بالشهرة، فتلك المدرسة خولف في بنائها شرط وقف الأرض الذي هو كنص الشارع، فالصلاة فيها مكروهة تحريما في قول، وغير صحيحة له في قول آخر كما نقله في جامع الفتاوى، وكذا ماؤها مأخوذ من نهر مملوك، ومن هذا القبيل حجرة اليمانيين في الجامع الأموي، ولا حول ولا قوة إلا بالله. اهـ." (ج:1,ص:81, دار الفكر-بيروت)
..

n

مجیب

سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔