021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشرکہ عورت سے نکاح جائز نہیں
..نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میرے برادر نسبتی الف نے جوکہ امریکہ مقہم ہیں انہوں نے ایک بدھ مت مذھب کی عورت شادی کرلی تھی سب گھر والوں کے منع کرنے باوجود نہ مانے,پھر ان کے ہاں اسی عورت سے ایک بچہ کی ولادت بھی ہوگئی ،میں نے اپنے whatsappکےفیملی گروپ میں ان کے نام ایک پیغام بھیجا کہ جس میں سورة بقرہ کی آیت نمبر 221کا ترجمہ لکھ دیا ۔ کہ جس میں مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت کی گئی ہے ۔ ان کی بھانجی باء جوکہ لندن میں رہتی ہیں نارض ہوگئیں کہ میں نے یہ پیغام فیملی گروپ کے ذریعہ کیوں بھیجا ،ان یہ کہنا تھا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے ان کو ذاتی طور پر کہنا چاہئے تھا، اس طرح کسی کا عیب سب کو بتانا بد اخلاقی کی بات ہے اور سورة کے آیت نمبر 19،20کا حوالہ بھی دیا ۔ اب سوال یہ کہ انہیں کیا جواب دوں کہ واقعی الف کا گناہ ایسا ہے کہ مجھے سب کو نہیں بتانا چاہئے ۔واضح ہوکہ whatsappکے فیملی گروپ میں سارے خاندان والے ہی ممبر ہیں ۔ کیا یہ گناہ ایسا نہیں ہے کہ الف صاحب کے توبہ کرنے تک پورے خاندان والے ان سے بائیکاٹ کریں قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں ۔

o

١۔بدھ مت کے پیروکار مشرک ہیں کسی مسلمان کا ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں لہذا صورت مسئولہ میں نکاح منعقد نہیں ہو ا اس شخص نے بدھ مت عورت کےساتھ ناجائز تعلق قائم کر رکھا ہے ۲۔اس پر لازم ہےاس فعل سے توبہ کرے اوراس عورت کوفورا چھوڑدے ، ۳۔اور بچہ بھی اس سے لے لے ، ۴۔اگر وہ شخص اس ناجائز تعلق کو ختم نہ کرے بلکہ گناہ پر بدستور قائم ہے ،توسب رشتہ داروں کو ملکر اس کو گناہ سے بچانے کی فکرکرنا چاہئے ۔ ۵۔چونکہ اکثر لوگوں کو اس گنا ہ کی قباحت کا علم نہیں ہے اس لئے فیملی گروپ میں اس نیت سے بھیجنا کہ سب کو اس گنا ہ کی قباحت کا پتہ چلے اور سب ملکر اس کو گناہ سے بچانے کی فکر یں تواس میں کوئی حرج نہیں، اور اس شخص کا فعل اعلانیہ گناہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مطلع کرنا غیبت میں بھی داخل نہیں ،تا ہم رشتہ داروں کو بتانے میں ایسی کوئی صورت اختیار نہ کی جائے جس سے فتنہ اور بڑھ جائے فائدہ کی بجائے نقصان ہو ۔ ٦۔ یہ بھی یاد رہے کسی کو نصیحت کرنے کا بہتر اور مناسب طریقہ تو یہ ہوتا ہے کہ اس کو تنہائی میں سمجھایا جائے ، لہذا فیملی گروپ میں بھیجنے کی بجائے اگر ذاتی میں بھیجا جائے ، تواس میں اس کو سوچنے کا زیادہ موقع مل سکتا ہے ، حق کو قبول کرنے کی زیادہ امید ہے ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 294) "فصل": ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما, فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {وَلا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ}, ويجوز أن ينكح الكتابية؛ لقوله عز وجل: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ}. والفرق أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح إلا أنه جوز نكاح الكتابية؛ لرجاء إسلامها؛ لأنها آمنت بكتب الأنبياء والرسل في الجملة, رد المحتار (15/ 61) لو عقد على منكوحة الغير أو معتدته أو مطلقته الثلاث أو أمة على حرة أو تزوج مجوسية أو أمة بلا إذن سيدها أو تزوج العبد بلا إذن سيده أو تزوج خمسا في عقدة فوطئهن أو جمع بين أختين في عقدة فوطئهما أو الأخيرة لو كان متعاقبا بعد التزوج فإنه لا حد وهو بالاتفاق على الأظهر ، أما عنده فظاهر ، وأما عندهما فلأن الشبهة إنما تنتفي عندهما إذا كان مجمعا على تحريمه وهي محرمة على التأبيد بحر . قلت : وهذا هو الذي حرره في فتح القدير وقال إن الذين يعتمد على نقلهم وتحريرهم كابن المنذر ذكروا أنه إنما يحد عندهما في ذات المحرم لا في غير ذلك كمجوسية وخامسة الی قولہ والصحيح أنها شبهة عقد ؛ لأنه روي عن محمد أنه قال سقوط الحد عنه لشبهة حكمية فيثبت النسب ، وهكذا ذكر في المنية ا هـ وهذا صريح بأن الشبهة في المحل وفيها يثبت النسب على ما مر ا هـ كلام النهر ، قلت : وفي هذه زيادة تحقيق لقول الإمام لما فيه من تحقيق الشبهة حتى ثبت النسب ، ويؤيده ما ذكره الخير الرملي في باب المهر عن العيني ومجمع الفتاوى أنه يثبت النسب عنده خلافا لهما
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔