021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ھبہ بدون القبض کا حکم
..ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، زید نے اپنی زندگی میں اپنا ایک مکان اپنے ایک بیٹے کے نام پر کردیا لیکن وہ مکان زید کے پاس ہی تھا، زید کے بیٹے کو اس مکان کو بیچنے، ہبہ کرنے اور کرایہ لینے تک کا اختیار نہ تھا۔ اب زید کی وفات کے بعد اس مکان کے حق دار تمام ورثہ ہیں یا صرف ایک بیٹا جس کے نام پر یہ مکان کیا تھا؟ تنقیح:زید نے جس بیٹے کے نام یہ مکان کیا تھا وہ اس وقت عاقل وبالغ تھا۔

o

صورتِ مسئولہاگر واقعہ کے مطابق ہے تو چونکہ زید نے اپنے بیٹے کو مالکانہ قبضہ نہیں دیا تھا، اور زید کا انتقال ہو چکا ہے، لہذا نام پر کرادینے کی اب کوئی حیثیت نہیں۔ یہ مکان زید کے ترکہ میں شمار ہوگا اور تمام شرعی ورثہ میں تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى:قال عامة العلماء:(القبض) شرط والموهوب قبل القبض على ملك الواهب يتصرف فيه كيف شاء. (بدائع الصنائع:6/ 123) قال العلامة الحصکفی رحمه الله تعالى:وشرائطصحتها (فيالموهوبأنيكونمقبوضاغيرمشاعمميزاغيرمشغول) . (الدرالمختاروحاشيةابنعابدين:5/ 688) قال العلامة ابن نجيم رحمه الله تعالى:قيدنا بكونه بعد التسليم لأنه لو مات أحدهما قبله بطلت لعدم الملك. (البحر الرائق :7/ 292) قال العلامة المرغيناني رحمه الله تعالى:والقبض لا بد منه لثبوت الملك. (الهداية :3/ 222) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔