021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معصیت کی وجہ سے قطع تعلق
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

خالد جاوید میرا حقیقی بیٹا ہے،جس نے میرے مشورہ کے بغیر اپنی بیٹی کی منگنی پر اپنے گھر میں مخلوط ناچ گانا کروایا،جس میں میں نے شرکت نہیں کی،جس لڑکے کے ساتھ منگنی ہوئی وہ غیربرادری کے ہیں اور ان کے عقائد وغیرہ کا بھی مجھے علم نہیں،جس لڑکے کے ساتھ منگنی ہوئی ہے وہ امریکہ میں رہائش رکھتا ہے،میں نے ناچ گانے کی ویڈیو دیکھ کر اپنے بیٹے اور بہو کو سمجھایا کہ یہ لوگ بے دین ہیں،ان کو رشتہ نہ دو،لیکن وہ نہیں مانے،میں عرصہ دراز سے دل کا مریض ہوں،میری بیمار پرسی کے لیے ھبی نہیں آئے،کچھ عرصہ کے بعد میرے بیٹے اور بہو نے مجھے اور بہن بھائیوں کو بتائے بغیر اسلام آباد کے کسی ہوٹل میں جاکر اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور وہاں بھی مخلوط ناچ گانا ہوا،مجھے اور میرے دیگر بچوں کو جب پتہ چلا تو بہت صدمہ ہوا،پوچھنا یہ ہےکہ کیا میں اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ بول چال بند کرسکتا ہوں یا نہیں؟مفصل جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

o

کسی مسلمان سے کسی دنیوی وجہ سے کی بناء پر تو تین دن سے زیادہ قطع تعلق جائز نہیں،البتہ اگر اس میں کوئی دینی مصلحت ہو مثلا ترک تعلق کی وجہ سے اصلاح احوال اور ترک منکرات کی امید ہو تو تین دن سے زیادہ کی بھی گنجائش ہے،لہذا مذکورہ صورت میں محض اس وجہ سے تو قطع تعلق کی گنجائش نہیں کہ انہوں بیٹی کا رشتہ کرتے وقت آپ کو اعتماد میں نہیں لیا،کیونکہ بیٹی کے رشتے کا اختیار شریعت نے والد کو دیا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق جہاں مناسب سمجھے اپنی بیٹی کا رشتہ کردے،اس لیےمحض اس وجہ سے تو آپ کے لیے ان سے قطع تعلق جائز نہیں تھا،لیکن شادی بیاہ کے موقع پر مخلوط محفل اور ناچ گانا شرعا حرام ہے،اس لیے اس بناء پر آپ کے لیے ان کی اصلاح کی خاطر قطع تعلق کی اس وقت تک گنجائش ہے جب تک وہ اپنے اس فعل پر نادم ہوکر اس سے توبہ تائب نہ ہوجائیں۔ نیز شریعت نے رشتہ کا اختیار والد کو دیا ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ شریعت نے رشتہ کرتے وقت دینداری کو مقدم رکھنے کی ترغیب بھی دی ہے،اس لیے رشتہ کرتے وقت اس کاخصوصی لحاظ رکھنا چاہیے اور ایسے مواقع پر خاندان کے بڑوں خصوصا والدین کو اعتماد میں لے لینا چاہیے کہ یہی دینی اور دنیوی اعتبار سے فائدہ مند ہے۔

حوالہ جات

"مرقاة المفاتيح " (8/ 3146): "قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. وفي حاشية السيوطي على الموطأ، قال ابن عبد البر: هذا مخصوص بحديث كعب بن مالك ورفيقيه، حيث أمر صلى الله عليه وسلم أصحابه بهجرهم، يعني زيادة على ثلاث إلى أن بلغ خمسين يوما. قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما، وقد هجر نساءه شهرا وهجرت عائشة ابن الزبير مدة". "فتح الباري لابن حجر" (10/ 497): "(قوله: باب ما يجوز من الهجران لمن عصى) أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز؛ لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع فتبين هنا السبب المسوغ للهجر وهو لمن صدرت منه معصية فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها". فتح الباري لابن حجر (10/ 497) وقال الطبري قصة كعب بن مالك أصل في هجران أهل المعاصي وقد استشكل كون هجران الفاسق أو المبتدع مشروعا ولا يشرع هجران الكافر وهو أشد جرما منهما لكونهما من أهل التوحيد في الجملة وأجاب بن بطال بأن لله أحكاما فيها مصالح للعباد وهو أعلم بشأنها وعليهم التسليم لأمره فيها فجنح إلى أنه تعبد لا يعقل معناه وأجاب غيره بأن الهجران على مرتبتين الهجران بالقلب والهجران باللسان فهجران الكافر بالقلب وبترك التودد والتعاون والتناصر لا سيما إذا كان حربيا وإنما لم يشرع هجرانه بالكلام لعدم ارتداعه بذلك عن كفره بخلاف العاصي المسلم فإنه ينزجر بذلك غالبا
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔