021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یکم سے 10ذی الحج تک ناخن بال کاٹنے کاحکم
56542.2قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

یکم ذی الحج سے دس ذی الحج تک ناخن ،بال کاٹنے کااستحباب صرف ذابح کے لئے ہے یاقربانی کے جانورمیں شریک سب کے لئے ہے؟

o

ذی الحجہ کاچاند دیکھنے بعد جس کاقربانی کاارادہ ہواس کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ ناخن ،بال نہ کاٹے جب تک کہ قربانی نہ ہوجائے ،لیکن یہ استحبابی حکم اس شرط سے ہے کہ زیرناف اوربغلوں کی صفائی اور ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن نہ گزرے ہوں ،اگرچالیس دن گزرگئے ہیں توایسی صورت میں بال وغیرہ نہ کاٹنے کایہ حکم نہیں،بلکہ یہ حکم ہے کہ صفائی کرے ،کیونکہ زیرناف بال ،ناخن کاٹنا امورفطرت (خصال حمیدہ ) میں سے ہےاورہرہفتے مستحب اور۴۰ دن کے اندر کاٹنا مسنون ہے، اس سے زیادہ باقی رکھنامکروہ تحریمی اورناجائزہے ۔ اوراگرقربانی کاارادہ نہ ہوتواس کے لئے مستحب بھی نہیں،ان دنوں میں بھی کاٹے جاسکتے ہیں۔

حوالہ جات

"مشکاۃ المصابیح " 2/127 : عن ام سلمۃ رضی اللہ عنہاقالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :اذادخل العشرواراد بعضکم ان یضحی فلایمسن من شعرہ شیئا وفی روایۃ فلایأخذن شعراولایقلمن ظفراوفی روایۃ من رأی ہلال ذی الحجۃ واراد ان یضحی فلایأخذن من شعرہ ولامن اظفارہ ۔رواہ مسلم۔ "ردالمحتارعلی الدرالمختار" 5/261 : وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی ویستحب حلق عانۃ وتنظیف بدنہ بالاغتسال فی کل اسبوع مرۃ والأفضل یوم الجمعۃ وجازفی کل خمسۃ عشر وکرہ ترکہ وراء الأربعین مجتبی۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔