021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کئی سالوں کی زکوۃ یک مشت نکالنے کا حکم
..زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

ایک خاتون کے پاس پراپرٹی ہے جس پرزکوۃ بنتی ہے، البتہ ابھی زکوۃ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں ،تو کیا یہ صورت جائز ہے کہ وہ ہر سال کی زکوۃ کا حساب لکھتی رہے اور جب پراپرٹی بکے تو یک مشت تمام پچھلی زکوۃ ادا کردے؟ یا پھر اسے چاہیے کہ چاہے پراپرٹی بیچنا پڑے تو بھی بیچ کر وقت پر زکوۃ ادا کردے؟ نیز اس کی والدہ اسکی زکوۃ ادا کرنے کو تیار ہیں کیا والدہ کے پیسے دینے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

o

اگر ان کی والدہ ان کو پیسے دے دے اور یہ خود زکوۃ ادا کرے یا ان کی اجازت سے ان کی والدہ زکوۃ ادا کریں، دونوں صورتوں میں زکوۃ ادا ہوجائے گی، یک مشت نکالنے کی غرض سے تاخیر نہ کرے۔

حوالہ جات

(رد المحتار:2/ 272) قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولو لم يكن عنده مال فأراد أن يستقرض لأداء الزكاة إن كان أكبر رأيه أنه يقدر على قضائه فالأفضل الاستقراض وإلا فلا لأن خصومة صاحب الدين أشد.(رد المحتار:2/ 272) ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع عند أبي يوسف، وإن لم يشترط الرجوع كالأمر بقضاء الدين وعند محمد لا رجوع له إلا بالشرط. (البحر الرائق :2/ 226) واللہ سبحانہ و تعالی أعلم اسلام الدین دارالافتا ء، جامعۃالرشید، کراچی 9/ربیع الثانی 1438ھقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: (قوله فيأثم بتأخيرها إلخ) ظاهره الإثم بالتأخير ولو قل كيوم أو يومين لأنهم فسروا الفور بأول أوقات الإمكان. وقد يقال المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بالنون إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم. (رد المحتار:2/ 272) قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: ولو لم يكن عنده مال فأراد أن يستقرض لأداء الزكاة إن كان أكبر رأيه أنه يقدر على قضائه فالأفضل الاستقراض وإلا فلا لأن خصومة صاحب الدين أشد.(رد المحتار:2/ 272) ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع عند أبي يوسف، وإن لم يشترط الرجوع كالأمر بقضاء الدين وعند محمد لا رجوع له إلا بالشرط. (البحر الرائق :2/ 226)
..

n

مجیب

اسلام الدین صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔