021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دیت کے تعین کا مسئلہ
..قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

میں کھانے پینے کی اشیاءکا کاروبار شروع کررہاتھا کہ جس کے ضمن میں میں نے ایک معروف کمپنی کی فرنچائزلی،اس کمپنی کے مطلوبہ معیارکے مطابق اپنی دکان بنوانے کےلے میں نے ایک تجربہ کار ٹھیکدار سے معاہدہ کیا دکان پر کام کرنے کےلے دکان کی چابی ٹھیکیدار کو دےدی،دکان کے باہر ایک بورڈ لگایا اس سے میں مطمئن نہیں تھا ،میں نے متعدد بار ٹھیکدار سے کہا کہ یہ بورڈ مضبوط نہیں ہے،گرسکتاہے،جس پر وہ مجھے اطمینان دلاتا رہا کہ میں تجربہ کارہوں کام کوجانتا ہوں،یہ بورڈ اسی طرح لگایا اور دکان پر کام چلتارہا،یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ جس کام پرمیرا اس ٹھیکدار سے معاہدہ ہواتھا وہ کام ابھی چل رہا تھا ،دکان کی چابی بھی ٹھیکیدار کےہی پاس تھی، اس بورڈ کے قریب الیکٹرک کےکام کے سلسلے میں تھیکیدار ڈرل وغیرہ میں اپنے مزدوروں کے ساتھ مصروف تھا کہ ایک صاحب ہماری دکان کے احاطے میں جوکہ س وقت عام گزر گاہ بھی نہیں تھی آکر کھڑے ہوگئے اور ٹھیکیدار سے کہنے لگے کہ تمہارا بورڈ کمزور ہے گرجائےگا۔اسی بات چیت کے دوران الیکٹرک کے کام کے لیے کی جانے والی ڈرل کی چوٹ کے اثر سےوہ بورڈ گرگیا جس کی زد میں وہ صاحب آ کر جاں بحق ہوگئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔میں اس وقت اپنے گھرپر آرام کررہا تھا اور مجھے اس واقع کا بالکل خبر نہ تھی کہ کیا ہوا ہے ۔ٹھیکیدار نے مجھے فون پر اطلاع کی آپ فورا دکان پر آجائیں ایک مسئلہ ہوگیا ہے ،دکان پہنچنے پر مجھے صحیح صورتحال کا علم ہوا۔اب دکا ن کا اصل مالک ہونے کے ناطے میں قانون کے نرغے میں آگیا،مقتول کے ورثاء نے ٹھیکیدار کی بجائے مقدمے میں مجھے نامزد کردیا چنانچہ میں جیل میں قید رہا اور پولیس کے تشدد سے بچنے کےلے لاکھوں روپے رشوت دی نیز ضمانت میں لاکھوں روپے لگے اب تک اس معاملہ میں بارہ لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں اب مقتول کے ورثاء مجھ پر چند باوقار اشخاص کے ذریعے سے اس بات کا دباو ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ میں انہیں شرعی دیت ادا کروں۔ سوال یہ ہےکہ کیا مذکورہ صورتحال میں ہمارے اوپر شرعا دیت کی ادائیگی بنتی ہےجبکہ یہ بورڈ ہمارے ٹھیکیدار نے لگایا تھا اور اسی کے کام کے دوران گرا ہے اور بورڈ لگانے کے بعد ابھی ٹھیکیدار کا مکمل کام ختم بھی نہیں ہواتھا اور اس نے دکان کی چابی بھی ہمیں نہیں دی تھی۔

o

بشرط صحت سوال جب ٹھیکیدارنے خود بورڈ نصب کیا اورابھی تک کام مکمل کرکے مالک کوحوالے نہیں کیا اور ٹھیکدار ہی کے ڈرل سے بورڈ گرا تو مرنے والے کی دیت دکان کے مالک پر نہیں ہوگی ،بلکہ دیت ادا کرنا ٹھیکیدار کے عاقلہ یعنی رشتہ داروں پر لازم ہےوہ نہ ہوں تو خود ٹھیکیدار پر لازم ہے ۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 474) "ولو استأجر رب الدار العملة لإخراج الجناح أو الظلة فوقع فقتل إنسانا قبل أن يفرغوا من العمل فالضمان عليهم" لأن التلف بفعلهم "وما لم يفرغوا لم يكن العمل مسلما إلى رب الدار" وهذا لأنه انقلب فعلهم قتلا حتى وجبت عليهم الكفارة، والقتل غير داخل في عقده فلم ينتقل فعلهم إليه فاقتصر عليهم "
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔