021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کااختیار شوہرسے مکمل لینے کاحکم
..طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

عبداللہ نے اپنی بیوی کوکہاکہ اگرتم فلاں گھرمیں گئی توتجھے طلاق ہے،مگراس گھرمیں جائے بغیرچارائے کارنہیں تھا،علماءسے فتوی لیاگیا جس سے پتہ چلا ایک طلاق واقع ہوگی اگرچہ بنت حوا بارباراس گھرمیں داخل ہو اورفتوی کے مطابق عدت کے اندرہی رجوع کرلیا۔ ابھی چندماہ ہی گذرے تھے کہ عبداللہ کی بنت حواسے لڑائی ہوئی اورعبداللہ نے صریح الفاظ میں بنت حواکوکہا ایک مرتبہ تجھے طلاق ہے،علماء سےمشاورت کے بعد عبداللہ نے عدت کے اندرہی بغیرنکاح کے رجوع کرلیا۔ دوسری طلاق کے بعد عبداللہ کااپنی والدہ سے جھگڑاہوا اورعبداللہ نے اپنی والدہ سے کہاکہ اگرمیں پھراس گھرمیں آیا تواس کوطلاق ہے۔ اورانگلی سے اشارہ بنت حوا کی طرف تھا جوسامنے گھڑی تھی ،اس کے بعد عبداللہ گھرسے نکل گیا،واپس گھرمیں داخل نہیں ہوا،یہ مکان عبداللہ کے والد کاذاتی ہے جوکہ پانچ مرلہ پرتعمیرہے،اس کے علاوہ عبداللہ کاذاتی کوئی گھر نہیں اورنہ ہی اس کے والدین کاہے۔ دونوں طلاقوں سے پہلے عبداللہ اپنے آبائی گاؤں میں اپنے چچاسے جھگڑااورکہاکہ اگرمیں پھر یہاں آیا تومیری بیگم مجھ پرطلاق ہے اورگھرسے نکل گیا اورجھگڑے کی جگہ اس مکان کاصحن تھا جس کی ایک چھت تلے عبداللہ کے پانچ چچے اوردادی آباد ہیں ،مکان تقریبا دس مرلے پرتعمیرہے،باقی اردگرد تقریباچارکنال جگہ ہے جوعبداللہ کے دادے کی ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات ہیں: سوال یہ ہے کہ چونکہ عبداللہ کے نابالغ بچے ہیں، اس لئے خاندان والوں کی رائے ہےکہ عبداللہ کوغصہ زیادہ آتاہے،اس لئے عبداللہ سے طلاق کااختیارلے کربنت حوا کے حوالہ کردیاجائے،مگرچونکہ عورت جلدبازہوتی ہے اس کے لئے کوئی مشروط طریقہ واضح فرمادیں۔

o

طلاق کااختیار اللہ تعالی نے مرد کودیاہے،اس اختیارکوشوہرسے لے کربیوی کےحوالہ اس طورپرکرناکہ شوہرکواس کے بعدطلاق کااختیارباقی نہ رہے ،اس کی کوئی صورت نہیں ،لہذامذکورہ صورت میں عبداللہ سے طلاق کامکمل اختیارلے کر بیوی کےحوالہ نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

......
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔