021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکا ح شغارکاحکم
..نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ لوگ عمومانکاح کامعاملہ اس طرح کیاکرتے ہیں: مثلا زید عمر کواپنی بیٹی نکاح میں اس شرط کے ساتھ دے گاکہ عمر زید کے بیٹے کواپنی بیٹی نکاح میں دینے کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ روپے بھی دیگا۔ اب زید کے بیٹی کے بدلہ میں عمر ایک لاکھ روپے دیگا،یہ تومہر ہے،لیکن عمر جوبیٹی دیگازید کے بیٹے کویہ کیامہر ہے یامہرنہیں ہے ،اگرمہرہے توکیاایک انسان ادوسرے انسان کامہربن سکتاہے ،اگریہ مہر نہیں ہے،بلکہ محض ایک شرط ہے توپھر اس شرط کی کیاحقیقت ہوگی اس پرعمل لازم ہوگایانہیں یایہ شرط ہی باطل ہوگی؟

o

سوال میں مذکورہ صورت کونکاح شغارکہاجاتاہے،اس کاحکم یہ ہے کہ یہ جائزنہیں ہے،حدیث میں اس سے ممانعت آئی ہے،اس وجہ سے اس طرح نکاح کرنے سے اجتناب لازم ہے تاہم اگرکسی نے اس طرح نکاح کرلیاہوتوشرط(کہ ایک لڑکی کے بدلے دوسری لڑکی دی جائے گی) درست اورواجب العمل نہ ہوگی،اور نکاح منعقد ہوجائے گا،لیکن دونوں جانب سے مہرمثل دیناضروری ہوگا۔

حوالہ جات

"صحيح البخاري"7 / 12: باب الشغار: حدثنا عبد الله بن يوسف أخبرنا مالك عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشغار والشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته ليس بينهما صداق۔ "رد المحتارعلی الدرالمختار "10 / 10: ( ووجب مهر المثل في الشغار ) هو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته أو أخته مثلا معاوضة بالعقدين وهو منهي عنه لخلوه عن المهر ، فأوجبنا فيه مهر المثل فلم يبق شغارا۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔