021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہنڈی کے کاروبار کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

ہنڈی کا کاروبار جائز ہے یا ناجائز؟ نیز ہنڈی کے ذریعے دبئی سے کوہاٹ گھر پیسے بھجوانا شرعاً کیا ہے؟

o

ہنڈی کا کاروبار اور اس کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھجوانا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے: 1۔ دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ تبادلہ کا معاملہ ثمنِ مثل پر کیا جائے، یعنی عام مارکیٹ میں معاملہ کے دن اس کرنسی کی جو قیمت ہو اسی قیمت کے بدلے تبادلہ کیا جائے، قیمت اس سے کم یا زیادہ مقرر نہ کی جائے۔ 2۔ دونوں عوضوں میں سے کسی ایک پر مجلسِ عقد میں قبضہ کیا جائے، یعنی معاملہ کرتے وقت وہ شخص جو پاکستان پہنچ کر یا اپنے نمایندہ کے ذریعہ پاکستانی روپیہ اداء کرنا اپنے ذمہ لے رہا ہو وہ اسی مجلس میں اس دوسری کرنسی (ریال وغیرہ) پر قبضہ کرلے جس کا بدلہ وہ پاکستانی روپیہ میں اداء کرے گا۔ 3۔ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانوناً منع نہ ہو۔ مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر پہلی دو شرائط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ سرے سے ناجائز ہوگا اور کمائی حرام ہوجائے گی۔ اور اگر تیسری شرط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، باقی معاملہ فی نفسہ درست رہے گا، یعنی کمائی حرام نہیں ہوگی۔ (مأخذہٗ: اسلام اور جدید معاشی مسائل، مجموعۂ رسائلِ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: 2/86۔87)

حوالہ جات

تکملة فتح الملھم (3/268): المسلم یجب علیہ أن یطیع أمیرہ فی الأمور المباحة، فإن أمر الأمیر بفعل مباح وجبت مباشرتہ، وإن نھی عن أمر مباح حرم ارتکابہ؛ لأن اللہ سبحانہ وتعالی قال: { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]، فلو کان المراد من إطاعة أولی الأمر إطاعتھم فی الواجبات الشرعیة فحسب، لما کان ھناك داعٍ لاستقلالھم بالذکر فی ھذہ الآیة؛ لأن طاعتھم فی الواجبات الشرعیة لیست إطاعة أولی الأمر، وإنما ھو إطاعة اللہ ورسولہ، فلما أفردھم اللہ سبحانہ بالذکر ظھر أن المراد إطاعتھم فی الأمور المباحة. ومن ھنا صرح الفقھاء بأن طاعة الإمام فیما لیس بمعصیة واجبة. فقه البیوع (2/739): أما تبادل العملات المختلفة الجنس، مثل الربیة الباکستانیة بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئة أیضاً؛ لأن الفلوس لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئة جمیعاً بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین….. فلاتجوز النسیئة فی الموقف الثانی، وتجوز فی الموقف الثالث، وھذا الموقف الثالث ھو الذی اخترتہ فی رسالتی "أحکام الأوراق النقدیة". بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة (1/175): وقد یقع إشکال علی جواز النسیئة أنه لو أجیزت النسیئة فی مبادلة عملات مختلفة، یمکن أن تصبح النسیئة حیلة لأکل الربا…. وحل هذا الإشکال ماذکرنا من أن یشترط فی جواز النسیئة أن یکون بسعر المثل یوم العقد. فإن اشتراط ثمن المثل فی عقود النسیئة یقطع الاحتیال علی الربا. واشتراط سعر المثل فی المبادلات له نظائر کثیرة فی الفقه، مثل أجرة کتابة الفتوی، أجازها الفقهاء بشرط أن لایتجاوز فیه عن أجر المثل، وذلك لئلا یتخذ ذلك حیلة لتقاضی الأجرة علی الإفتاء نفسه.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔