021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی تنخواہ میں اولاد کاحصہ
56794ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے والد محترم علی اصغر نے میری والدہ کو اسکول کی نوکری لیکر دی تھی، اس کے بعد 1986 میں قضا ء الہی سے والد صاحب کا انتقال ہوگیا پھر والدہ نے اختیار نامی شخص سے شادی کرلی ،والدہ انکے ساتھ رہ رہی ہیں ،ہم تین بہنیں اور ایک بھائی علی اصغر کی اولاد ہیں ہمیں والدہ کی تنخواہ سے حصہ نہیں دیا جارہاہے، بختیار نامی شخص جو ہماری والدہ کا دوسرا شوہر ہے ان کا کہنا یہ ہے والدہ کی تنخواہ میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ ہماری والدہ روبینہ جس کو ہمارے والد نے سروس لیکر دی تھی کیا اس میں ہماراحق یاحصہ نکلتا ہے یانہیں؟ والدہ کی تنخواہ گریجویٹ ۔ پینشن میں ہمارا کیاحق ہے ؟

o

صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون کی تنخواہ یا دیگر اموال میں اولاد کا کوئی حق نہیں ہے ، پوری تنخواہ کی حقدار وہ خود ہے جبتک وہ زندہ ہے اولاد کو اس تنخواہ میں سے حصہ مانگنے کا حق نہیں ،البتہ اولاد کی مالی حالت کمزور ہو اور والدہ کے پاس بچت ہو تو بطور احسان اولاد کی مدد کرنا چاہئے ۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 557) الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث مشكاة المصابيح للتبريزي (2/ 165) 2946 - [ 9 ] ( لم تتم دراسته ) وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه " . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔