021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لاعلمی میں کلمہ کفر کہنے کا حکم
57068القرآنآل عمران

سوال

کیااگر ایک انسان کو علم نہ ہو کہ یہ کلمہ کفر یہ ہے تو پھر بھی اس کو کہنے سے بھی انسان کافر ہو جاتا ہے؟اورکیا اس صورت میں نکاح کی تجدید کرنی پڑتی ہے؟

o

اگر لاعلمی میں ایسا کلمہ کہا جس میں کفر کے علاوہ اور احتمالات بھی ہوں تو ایسے شخص کو کا فر نہیں کہا جائے گا۔البتہ ایسے شخص کو توبہ استغفار اور احتیاطا تجدید نکاح کر لینا چاہیے۔

حوالہ جات

(الفتاوى الهندية:2/ 276)
 ومن أتى بلفظةالكفر،وهولم يعلم أنهاكفرإلاأنه أتى بهاعن اختياريكفرعندعامةالعلماءخلافاللبعض،ولايعذربالجهل كذافي الخلاصة.
(الدرالمختارمع ردالمحتار:4/ 230)
 مايكون كفرااتفاقايبطل العمل والنكاح،ومافيه  خلاف يؤمربالاستغفاروالتوبة وتجديدالنكاح وظاهره أنه أمراحتياط. (البحرالرائق:5/ 135) ومن تكلم بهااختياراجاهلا بأنهاكفرففيه اختلاف والذي تحررأنه لايفتى بتكفيرمسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أوكان في كفره اختلاف ولورواية ضعيفة.

محمدتنویر الطاف

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

30/جمادی الاولی1438ھ

n

مجیب

محمد تنویر الطاف صاحب

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔