021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوصریح طلاق دینے کے بعدبیوی نے خلع لیا،توکتنی طلاقیں ہوئیں ؟
..طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

ایک عورت کواس کاخاونددوصریح طلاق دے چکاہے،اس کے بعدعورت نے خاوندپرخلع کادعوی دائرکیاتوعدالت طلبی پرخاوندنےشرائط قبول کرتے ہوئے باہم رضامندی سے عورت کوگھرمیں بسالیا،کچھ عرصہ بعد دونوں کاپھرتنازعہ ہوگیا،عورت نے دوبارہ خلع کادعوی کردیاتوخاوند نے دوبارہ کہامجھے اپنی بیوی سے ملنے کاموقع دیاجائے،جبکہ عورت نے اپنے وکیل کے کہنے سے ملنے سےانکارکردیاتوعدالت نے عورت کے حق میں فیصلہ کردیااورعورت سے پانچ سوروپےحق مہرلے کرخاوندکوواپس کردیا،جبکہ عدالت سے باہرواپسی پرخاوند نے عورت اوراس کے عزیزواقارب کومخاطب ہوکرگالی دیتے ہوئے یہ جملہ کہا:اچھاہوابرے لوگوں سے جان چھوٹ گئی،دریافت طلب بات یہ ہےکہ کیاعورت کویہ طلاق بائن واقع ہوئی یامغلظہ ،عورت آگے نکاح کرسکتی ہے یانہیں یا دوبارہ خاوندکے پاس لوٹ جائے ،جبکہ خاوند لوگوں کویہ کہتاہےکہ نہ میں نے اس کوطلاق دی ہے ،نہ دینی ہے،ایسے ذلیل کرناہے۔

o

o صورت مسئولہ میں بشرط صحت سوال ،بیوی پرتین طلاق مٖغلظہ (دوصریح طلاق جوخلع سے پہلے دی تھی،اورایک خلع جوکہ طلاق بائن ہے، جس کی وجہ سے سابقہ دوطلاقیں بھی بائنہ ہوگئی ہیں) واقع ہوکر،بیوی شوہرپر حرام ہوگئی ہے،عورت کہیں اورنکاح کرسکتی ہے ،دوبارہ اسی شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے حلالہ شرعیہ ضروری ہوگا۔ شوہرکی طرف سے بدل خلع (500)روپے مہرلینااورعدالت سے باہرآکریہ کہناکہ "اچھاہوابرے لوگوں سے جان چھوٹ گئی"خلع پررضامندی کی دلیل ہے اس لئے یہ عدالتی خلع معتبرہوگا اوراسی وجہ سے طلاق مغلظہ واقع ہوگئی ہے ۔ لیکن اگردوصریح طلاق کی عدت گزرگئی ہو ،اورشوہر نے دوران عدت رجوع نہ کیاہو ،اورعورت نے اس کے بعد خلع کادعوی دائرکیاہوتواس صورت میں یہ خلع والی طلاق واقع نہ ہوگی،پہلے دی جانے والی دوطلاق عدت گزرنے سے بائنہ ہوجائیں گی،اس صورت میں دوبارہ نکاح بھی ہوسکتاہے۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت 229 : فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔ " الھندیة"1 /488 : اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔ "زادالمعاد" 2/238 : وفی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین ۔ "ردالمحتارعلی الدرالمختار" 12/109 : وشرطہ کالطلاق (وھوأھلیة الزوج وکون المرأة محلاللطلاق منجزا،اومعلقاعلی الملک ،امارکنہ فھوکمافی البدائع اذاکان بعوض الایجاب والقبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض ۔ "رد المحتارعلی الدرالمختار " 11 / 471: والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة۔ "بدائع الصنائع"ج 7 / 375: فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق۔ "رد المحتارعلی الدرالمختار " 11 / 194: مطلب الصريح يلحق الصريح والبائن ( قوله الصريح يلحق الصريح ) كما لو قال لها : أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر ، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا ( قوله ويلحق البائن ) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية ، ثم قال : وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔