021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرضہ لینے والے سے لین دین کاحکم
56986جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے بینک سے سود پر قرضہ لیا ہوا ہے اور وہ شخص مارکیٹ میں سپلائر ہے ۔یہ بات مجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بینک سے سودی قرضہ لے کر اس سے مال تیار کرتا ہے ، کیا میرے لیے اس شخص سے مال لے کر آگے بیچنا جائز ہے؟

o

سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق آپ کے لیے اس شخص سے مال لینا اور اسے آگے فروخت کرنا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی آپ کے لیے حلال ہے، کیوں کہ اس شخص نے در اصل بینک سے قرضہ لیا ہے اور بینک کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہے کہ اس قرضہ پر میں بینک کو سود ادا کروں گا لہٰذا اس کے لیے بینک کو سود دینا اور بینک کا اس سے سود لینا یہ ناجائز اور حرام ہے لیکن اس شخص کے دیگر معاملات شرعی احکام کی رعایت رکھتے ہوئے،خواہ وہ آپ سے ہوں یا کسی اور سے وہ فی نفسہ جائز ہیں ،اگرچہ اسی قرضے کی رقم سے ہوں کیوں کہ یہ رقم حلال ہے۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 136) وظاهر ما في جمع العلوم، وغيره أن المشتري يملك الدرهم الزائد إذا قبضه فيما إذا اشترى درهمين بدرهم فإنهم جعلوه من قبيل الفاسد، وهكذا صرح به الأصوليون في بحث النهي فقالوا إن الربا وسائر البيوع الفاسدة من قبيل ما كان مشروعا بأصله دون وصفه… بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 396) وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال…أن المستقرض بنفس القبض صار بسبيل من التصرف في القرض من غير إذن المقرض بيعا، وهبة وصدقة، وسائر التصرفات، وإذا تصرف نفذ تصرفه ولا يتوقف على إجازة المقرض، وهذه أمارات الملك. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 164) (ويملك) المستقرض (القرض بنفس القبض عندهما) أي الإمام ومحمد خلافا للثاني فله رد المثل ولو قائما خلافا له بناء على انعقاده بلفظ القرض وفيه تصحيحان وينبغي اعتماد الانعقاد لإفادته الملك للحال بحر…
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔