021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائع سے ادھارخریدی گئی چیز دوبارہ اسی کوقیمت خرید سےکم پر فروخت کرنے کا حکم/شراء ماباع باقل مماباع قبل نقد الثمن الاول
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ایک شخص نے اپنی گاڑی قسطوں پر فروخت کر دی اور قسط مقرر تھے کہ بیس اقساط ہیں۔جس نے خریداپھر اسی نے دوران اقساط نقد گاڑی بائع کو دوبارہ کم قیمت پرفروخت کر دیا اور بدستور اپنی قسطیں بھی پابندی سے بھر رہا ہے۔کیا یہ بیع جائز ہے؟

o

خریدار کے لیے بائع سے ادھارخریدی گئی چیز دوبارہ اسی کوقیمت خرید سےکم پر فروخت کرنا جائز نہیں۔لہذا یہ صورت جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات

فی الدر المختار:(268/7):(قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا. وفی المحيطالبرهانيفيالفقهالنعماني (12/ 313) أنشراءماباعالرجلبنفسهأوبيعلهبأنباعوكيلهبأقلمماباعممنباعأوممنقاممقامالبائعكالوارثقبلنقدالثمنلايجوزإذاكانتالسلعةعلىحالهالمينتقضبعيب،وكذلكإنبقيعليهشيءمنثمنهوإنقل. شرحالوقايةلعليالحنفي (4/ 125) (وشراءماباع) أيولايجوزشراءالبائعلنفسهأولغيرهمنالمشتري،أومنوكيله،أومنوارثهماباعبثمنحالأومؤجلبنفسهأوبوكيله (بأقلمماباعقبلنقدثمنهالأول) إنكانالمبيعلمينقصذاته،واتحدالثمنانجنسا. تبيينالحقائقشرحكنزالدقائقوحاشيةالشلبي (4/ 53) قال (وشراءماباعبالأقلقبلالنقد) ومعناهأنهلوباعشيئاوقبضهالمشتريولميقبضالبائعالثمنفاشتراهبأقلمنالثمنالأوللايجوز.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔