021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگرچہرہ قبلہ کی طرف ہواورپاؤں شمال یاجنوب کی طرف تونماز کاحکم
..نماز کا بیاننماز کی شرائط کا بیان

سوال

:پاؤں شمال یاجنوب کی طرف اورچہرہ خانہ کعبہ کی طرف ہو،ایسی صورت میں نمازپڑھناصحیح ہے یانہیں ؟

o

صورت مسئولہ میں اگر صرف پاؤں قبلہ رخ نہ ہوں،سینہ قبلہ کی طرف ہوتوایسی نمازجائزہے،البتہ بلاعذرنماز میں پاؤں بھی قبلہ رخ نہ رکھناخلاف سنت ہے۔

حوالہ جات

"رد المحتارعلی الدرالمختار" 4 / 465: ( قوله وتحويل صدره ) أما تحويل وجهه كله أو بعضه فمكروه لا مفسد على المعتمد كما سيأتي في المكروهات ( قوله بغير عذر ) قال في البحر في باب شروط الصلاة : والحاصل أن المذهب أنه إذا حول صدره فسدت ، وإن كان في المسجد إذا كان من غير عذر كما عليه عامة الكتب ا هـ وأطلقه فشمل ما لو قل أو كثر ، وهذا باختياره ، وإلا فإن لبث مقدار ركن فسدت وإلا فلا كما في شرح المنية من فصل المكروهات۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔