021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دھوکہ دے کر معاوضہ لینے کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بخدمت جناب مفتی صاحبان زید مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد سلام عرض یہ ہے کہ ایک دوکاندار ہے، وہ مال بیچتا ہے کمیشن پر اور جب بیوپاری یا زمیندار کو بل بناتا ہے تو فروخت کیے ہوئے ریٹ سے کم ریٹ پر بل بناتا ہے تو یہ رقم جو فروخت کیے ہوئےرقم سے کم پر بل بناکر بقایا رقم جائز ہے اور ہاں اسی دوکان میں ملازمت جائز ہے یا نہیں، جبکہ تمام معلومات ملازم کو ہے۔

o

صورت مسئولہ میں دوکاندار کے لیے فروخت کیے ہوئے رقم سے کم پر بل بناکربقایا رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ وہ بیوپاری یا زمیندار کو دھوکہ دے کر رقم حاصل کررہا ہے۔ البتہ اس دکان میں ملازمت کرنا اس شرط پر جائز ہے کہ یہ ملازم اپنی ملازمت کی ذمہ داریاں پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کرے اور دکاندار کے اس دھوکے میں شریک نہ بنے۔ اس صورت میں اس کے لیےاپنی خدمات کا عوض حاصل کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

"عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "ومن غشنا فليس منا" ( (3) وعنه -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ على صُبْرَة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللًا. فقال: "ما هذا يا صاحب الطعام" قال: أصابته السماءُ يا رسول الله. قال: "أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، من غشنا فليس منا" (4)." (صحيح فقه السنة وأدلته وتوضيح مذاهب الأئمة4/256 ط:المکتبۃ التوفیقیۃ) " - أخبرنا محمد بن الصلت، حدثنا أبو عقيل: يحيى بن المتوكل قال: أخبرني القاسم بن عبيد الله، عن سالم، عن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بطعام بسوق المدينة فأعجبه حسنه، فأدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يده في جوفه فأخرج شيئا ليس بالظاهر (1)، فأفف بصاحب الطعام، ثم قال: لا غش بين المسلمين، من غشنا فليس منا." (سنن الدارمي ت الغمري (ص: 610)ط:دار البشائر) "وقال - عليه الصلاة والسلام - «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» وشرطها أن تكون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة وركنها الإيجاب والقبول وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة؛ لأن المعقود عليه وهي المنافع معدومة والقياس أن لا تجوز لما فيها من إضافة العقد إلى ما سيوجد إلا أنها أجيزت للضرورة لشدة الحاجة إليها وهي تنعقد ساعة فساعة على حسب حدوث المنافع والعين المستأجرة أقيمت مقام المنفعة في حق إضافة العقد إليها ليرتبط الإيجاب بالقبول، فعمله يظهر في المنفعة ملكا واستحقاقا حال وجودها" (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي5/105 ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
..

n

مجیب

محمد کامران

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔