021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جشنِ عیدمیلاد النبی کاحکم
..سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ۱۲ ربیع الاول کوہمارے ہاں لوگ عید میلاد البنی صلی اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں ،طریقہ یہ ہوتاہے کہ ایک یا دو دیگیں پکاتے ہیں اورپورے علاقے میں تقسیم کرتے ہیں اوراس کو لازم سمجھتے ہیں، عید نہ منانے والوں پرتنقید کرتے ہیں ۔ کیا یہ سب شریعت کی رو سے جائز ہے؟ قرآن،سنت اورآثارِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔

o

مروّجہ عید میلاد البنی نہ کتاب وسنت سے ثابت ہے اورنہ ہی خیرالقرون(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام اورتابعین کےدور) میں اس کو کو ئی جانتا تھا، یہ بہت بعد کی ایجاد ہے، اس کو ساتویں صدی کے اوائل میں موصل کے ایک مجہول الحال شخص شیخ عمربن محمدنے ایجادکیا اورصاحب اربل (سلطان مظفر ابوسعید) نے اس کی اقتداء کی۔( سیرت شامی بحوالہ ماہ ربیع الأول اورحب نبوی کے تقاضے ص:۲۶( اس تحریر سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاہ اربل نے عمربن محمد کی اقتداء کی تھی اوراصل موجد عمربن محمد تھا، اورحقیقت یہی ہے کہ عمربن محمدایک غریب اورمفلوک الحال شخص تھا، اس لئے وہ اپنے اس فعل کو شہرت نہ دے سکا اورشاہ اربل نے اسے خوب شہرت دی حتی کہ دوردورملکوں میں بھی اس کومشہورکیا، اسی وجہ سے بعض مورخین نے اسی کواس کاموجد قراردے دیا۔ )حسن المقصدفی عمل المولد للسیوطی بحوالہ ماہ ربیع الأول اورحب نبوی کے تقاضے ص:۲۶( یہ بات مسلّم ہے کہ اس عمل کا ثبوت نہ توکتاب وسنت میں ہے اورنہ ہی اس کاثبوت ان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اورتابعین واتباع تابعین رحمہم اللہ سے ہے جن کے سلسلے میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تمام لوگوں میں سے بہترین میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر جواس کے بعد کے ہیں اورپھرجو ان لوگوں کے بعدہیں۔(بخاری مع الفتح ۷؍۱۰کتاب فضائل الصحابۃ باب فضائل اصحاب النبیﷺ...۳۶۵۰؍۳۶۵۱(اسی طرح اس کا ثبوت ان ائمہ کرام سےبھی نہیں ملتا جن کی فقہی بصیرت پرامت کونازہے، اورمختلف مسائل میں جن کی تقلیدبھی کی جاتی ہے جب اس کا ثبوت کسی شرعی مرجع میں نہیں توپھر یہ کیسے شرعی کام ہوسکتاہے اورکیونکر لازم ہوسکتاہےاوراس کے نہ منانے والوں پرکیسے تنقیدصحیح ہوسکتی ہے ؟بلکہ بدعت ہونے کی وجہ سے اس کا منانے والاقابلِ تنقید اور گناہگار ہے۔ اگرجشن عیدمیلاد النبی نبی کریم ﷺ سے محبت کے اظہار کامسنون طریقہ ہوتا تواس کے سب سے زیادہ حقدار وہ صحابۂ کرام تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت تھی جس کا ہم تصورنہیں کرسکتے، نبی کریمﷺ سے صحابہ کی محبت دیکھنی ہو توصلح حدیبیہ کے موقعہ پر قریش کے سفیرعروہ بن مسعود ثقفی کابیان ملاحظہ کیجئے اوردیکھئے کہ جب وہ قریش کے پاس واپس گئے تو صحابہ کی اپنے نبی سے محبت کا نقشہ کن الفاظ میں کھینچا ،عروہ نے کہا’’اے میری قوم!اللہ کی قسم میں بڑے بڑے بادشاہوں سے مل چکا ہوں، میں نے قیصروکسریٰ اورنجاشی جیسے بادشاہ دیکھے ہیں لیکن اللہ کی قسم میں نے ایساکوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کی اس کے ساتھی اتنی تعظیم کرتے ہوں، جتنی تعظیم محمدﷺ کے ساتھی، ان کی کرتے ہیں، اللہ کی قسم! اگروہ کھنکھارتے بھی ہیں توان کے منہ سے نکلنے والابلغم ان کے کسی نہ کسی ساتھی کی ہتھیلی ہی میں گرتاہے، جسے وہ اپنے چہرے اورجلد پرمل لیتاہے اورجب وہ کوئی حکم دیتے ہیں توان کے ساتھیوں میں سے ہرایک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وضووالاپانی اسے مل جائے، اورجب وہ آپس میں گفتگو کرتے ہیں توان کے پاس اپنی آوازوں کوپست رکھتے ہیں، اوران کی تعظیم کی بناء پر ان کی نظروں سے نظرنہیں ملاتے۔(بخاری مع الفتح۵؍۴۰۱ کتاب الشروط ،باب الشروط فی الجہاد ۲۷۳۱،۲۷۳۲(نیز اس دن رسول اللہ کی وفات ہونا توتقریباًیقینی ہے، مگر ولادت یقینی نہیں، ولادت کے بارے سیرت نگاروں نے ۲؍ربیع الأول ،کسی نے آٹھ، کسی نے بارہ کسی نے سترہ اورکسی نے اٹھارہ اوربعض نے بائیس ربیع الأول کہا‘‘۔(البدایۃ والنہایۃ۲؍۲۶۰(جبکہ اکثر سیرت نگاروں نے تحقیق کے ساتھ ۹؍ربیع الاول عام الفیل کو آپ کا یوم پیدائش ہوناذکر کیاہے جیساکہ علامہ شبلی نعمانی سیرت النبیﷺ ۱؍۱۷۰،۱۷۱(میں، مولانا اکبرشاہ خاں نجیب آبادی اپنی کتاب تاریخ اسلام ۱؍۷۶(میں،مولاناصفی الرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ الرحیق المختوم:ص:۸۳(لکھا، اورمصرکے نامور ماہرفلکیات اورمشہور ومعروف ہیئت داں محمود پاشا فلکی نے بھی یہ تحقیق پیش کی ہے کہ آپ ﷺ کی صحیح تاریخ پیدائش ۹؍ربیع الأول ہی آتا ہے ۔(بحوالہ سیرت النبیﷺ ۱؍۱۷۱،۱۷۲( جب وفات اس دن تقریباً یقینی ہے اورولادت کا محض ایک کمزوراحتمال ہےتو اگر بالفرض مفاسد سے صرف نظر بھی کرلیاجائے تونبی صلی للہ علیہ وسلم کے وفات کے دن کیسے خوشی منائی جاسکتی ہے ؟ اصل خوشی تو یہ ہے کہ ہم ان کی اتباع کریں، ان کے لائے ہوئے احکام پر اپنی طرف سےاضافہ کئے بغیر من وعن ان کی پیروی کریں اوران کے تذکرے صرف ایک خاص تاریخ کے بجائے پورے سال کریں ۔اللہ تعالی سب کو فہمِ سلیم عطافرمائے اورپورے دین پر عمل کی توفیق عطافرمائے ۔

حوالہ جات

.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔