021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وعدہ بیع
57514خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کہ ایک آدمی مثلا زید نے عمر(بائع) سے ایک گائے 40 ہزار کی خریدی اور اسی وقت زید (مشتری) نے عمر (بائع) کو کچھ رقم جوکہ 2ہزار تھی ،بھی حوالہ کردی جو کہ علاقہ کے عرف کے مطابق سودے کی پختگی ہی ہوتی ہےاور بعد میں یہی رقم قیمت کا حصہ بھی سمجھی جاتی ہے۔(مطلب یہ ہوتا ہے کہ دوہزار ابھی دیے اور باقی 38 ہزار چیز کی وصولی کے وقت) پھر ہوا یوں کہ عمر(بائع) نے یہی گائے کسی تیسرے آدمی (بکر) کو 45 ہزار میں بیچ ڈالی۔اور چونکہ گائے ابھی تک بائع کے پاس تھی اس لیے بکر (مشتری ثانی) کے حوالہ بھی کردی۔ بعد میں جب بائع مطالبہ کے وقت مشتری اول کوحوالہ کرنے پر قادر نہ رہاتو اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے بائع نے قیمت اول (جس پر اس نے زید ،مشتری اول کو بیچی تھی) سے زائد رقم( 5000 ) پیشگی رقم سمیت مشتری اول کے حوالہ کردی۔ اس مسئلہ کی روشنی میں درج ذیل سوال کاجواب مطلوب ہے: کہ اگر پیشگی رقم نہ دی ہو بلکہ صرف وعدہ بیع ہو ، تو دوسری بیع کا کیا حکم ہے؟

o

اگر پیشگی رقم نہ دی ہو بلکہ صرف وعدہ بیع ہو ، تو دوسری بیع منعقد ہو جاتی ہے البتہ اخلاقی طور پر وعدہ کی پاسداری کرنی چاہیے۔لیکن شرعاًاس صورت میں جس شخص سے وعدہ بیع کیا تھا ، اگر اس کا حقیقی نقصان ہواہے تو اس کے نقصان کی تلافی ضروری ہے۔نقصان میں تفصیل یہ ہے کہ ایک ہے "نفع کانہ ہونا" اور دوسرا ہے" نقصان ہونا" ۔ "نفع نہ ہونے " کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں تصور کرلیا جائے کہ اتنا نفع ہو گا، لیکن بعد میں اتنا نفع نہ ہو۔ آج کل تاجروں کے ہاں نفع نہ ہونے کو بھی "نقصان " سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جبکہ شرعا اس کو" نقصان" نہیں کہا جاسکتا اور شریعت میں ایسے نقصان کا کوئی اعتبار نہیں۔ بلکہ وعدہ خلافی کی وجہ سے جو واقعۃً نقصان ہوا ہو اس کا رجوع کرسکتا ہے۔

حوالہ جات

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ} [المائدة: 1] "والمواعيد لا يتعلق بها اللزوم" المبسوط للسرخسي (6/ 181) "ان المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس، وهو الصحيح كما في الكافي والخانية، وأقره خسروهنا والمصنف في باب الاكراه وابن الملك في باب الاقالة بزيادة." الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 449)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔