021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض پر اضافی رقم لینے کا حکم
57449سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

مفتی صاحب ! ایک مسئلہ کا جواب پوچھنا ہے کہ میں نے مکان کی خریداری کے لیے پندرہ لاکھ روپے اپنے کزن سے ادھار لیے اور میں نے مکان خریدلیا۔ مکان خریدنے کے بعد اس مکان کو کرایہ پر دے دیا۔ ان سے قرض لیتے وقت یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہر مہینے تیس ہزار روپے آپ کو قسط ادا کرتا رہوں گا اور کرایہ میں سے تین ہزار روپے قرض کی رقم سے الگ ادا کروں گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا میرا یہ معاملہ کرنا شرعاً درست ہے؟ o

o

شریعت میں قرضہ پر مشروط اضافہ لینا دینا سود اور حرام ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ پندرہ لاکھ روپے بطور قرض دیے گئے ہیں، اس لیے اس پر ماہانہ نفع مثلاً تین ہزار روپے لینا شرعاً ناجائز اور سود ہے۔

حوالہ جات

"«ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر منفعة» وسماه ربا" المبسوط للسرخسي14/35 ط:دار المعرفۃ بیروت) ( "وفي الاشباه كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى الموهونة بإذن الراهن." (الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 430) "قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه" (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي6/29 ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ) "(وكره السفاتج) وهو قرض استفاد به المقرض أمن خطر الطريق وصورته أن يقرض ماله إذا خاف عليه الفوات ليرد عليه في موضع الأمن وهو تعريب سفته وسفته شيء محكم وسمي هذا القرض به لإحكام أمره وإنما كره لما روي أنه - عليه الصلاة والسلام - «نهى عن قرض جر نفعا» وقيل إذا لم تكن المنفعة مشروطة، فلا بأس به والله أعلم." (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي4/175 ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ) "(ويكره أن يقرض بقالا درهما ليأخذ منه) أي من البقال (به) أي بالدرهم (ما يحتاج) من الطعام وغيره (إلى أن يستغرقه) أي الدرهم فإنه قرض جر نفعا وهو منهي عنه" (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر2/555 ط:دار احیاء التراث العربی) "(و) كره (إقراض) أي إعطاء (بقال) كخباز وغيره (دراهم) أو برا لخوف هلكه لو بقي بيده. يشترط (ليأخذ) متفرقا (منه) بذلك (ما شاء) ولو لم يشترط حالة العقد لكن يعلم أنه يدفع لذلك شرنبلالية، لأنه قرض جر نفعا وهو بقاء ماله فلو أودعه لم يكره لأنه لو هلك لا يضمن وكذا لو شرط ذلك قبل الإقراض ثم أقرضه يكره اتفاقا قهستاني وشرنبلالية." (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)6/394 ط: دار الفکر بیروت)
..

n

مجیب

محمد کامران

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔