021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر آگے فروخت نہ کرنے کی شرط پر بیع کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

مفتی صاحب مجھے ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ میں نے اپنے بھائی سےایک گھر خریدا تھا ۔ اس نے مجھے اس شرط کے ساتھ گھر فروخت کیا تھا کہ میں اس کو آگے فروخت نہیں کروں گا کیونکہ وہ گھر اس کو ہمارے والد صاحب نے دیا تھا۔ اب میں اس گھر کو بیچنا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے تو کیا میرااس گھر کو بیچنا درست ہے؟ o

o

صورت مسئولہ میں آپ کے بھائی کا مکان بیچتے وقت آگے فروخت نہ کرنے کی شرط لگانا شرعاً معتبر نہیں، لہذا اس شرط کے باوجود آپ کے مکان کی خریداری درست ہے۔ آپ آگے بھی فروخت کرسکتے ہیں۔

حوالہ جات

"الاصل الجامع في فساد العقد بسبب شرط (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه”وفيه نفع لاحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) هو (من أهل الاستحقاق) للنفع بأن يكون آدميا،(كشرط أن يقطعه) البائع (ويخيطه قباء) مثال لما لا يقتضيه العقد وفيه نفع للمشتري (أو يستخدمه) مثال لما فيه للبائع" (الدر المختار شرح تنویر الابصار وجامع البحار 1/417 ط:دار الکتب العلمیۃ) "ومنهاشرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم كالرقيق وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس نحو ما إذا باع دارا على أن يسكنها البائع شهرا ثم يسلمها إليه أو أرضا على أن يزرعها سنة أو دابة على أن يركبها شهرا أو ثوبا على أن يلبسه أسبوعا ونحو ذلك؛ فالبيع في هذا كله فاسد؛ لأن زيادة منفعة مشروطة في البيع تكون ربا لأنها زيادة لا يقابلها عوض في عقد البيع وهو تفسير الرباوالبيع الذي فيه الربا فاسد أو فيه شبهة الربا، وإنها مفسدة للبيع كحقيقة الربا على ما نقرره إن شاء الله تعالى" (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع5/169 ط:دارالکتب العلمیۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔