021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قطب وابدال کی حقتقت
..تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیانمعجزات اور کرامات کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمادین اس مسئلہ کے بارے میں ایک شخص کہتاہے کہ ہر ملک میں ایک تصرفی انسان ﴿ قطب﴾ کا ہونا ضروری ہے اگر کسی ملک میں وہ انسان نہ ہو تو اس ملک کا نظام نہیں چل سکتاہے ۔ یہ کن لوگوں کا عقیدہ ہے اور اس بارے میں عام مسلمانوں کو کیا عقیدہ رکھنا چاہئے ؟

o

کائنا ت کا پورانظام اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے ،اللہ ہی کے حکم اور ارادہ سے یہ نظام چل رہاہے ،اللہ کے حکم کے بغیر درخت کا ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا ہے ،اللہ تعالی کائنا ت کے نظام چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے ، اس نظام کے چلانے میں اللہ کا کوئی شریک بھی نہیں ،وہ وحدہ لاشریک ہیں ۔ کائنات میں کوئی تصرفی انسان نہیں جس کو اللہ تعا لی نے کائنا ت کے نظام چلانے کا اپنے جیسا اختیا سونپا ہو لہذا اللہ تعالی کے سوا کسی نبی یا ولی کے بارے میں اللہ تعالی جیسا متصرف فی الامور ہونے کا عقیدہ رکھنا شرکیہ عقیدہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔

حوالہ جات

وقیل لعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیف بھم یحی ویمیت ؟ قال ؛لانھم یسئلون اللہ اکثار الامم فیکثرون وید عون علی الجبابرة فیقصمون ویستفتون فیسقون ، ویسئلون فتنبت لھم الارض ، ویدعون فیدفع بھم انواع البلاء ۔﴿الحاوی للفتاوی ؛۲/۲۴۷﴾ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے الحاوی للفتاوی میں رسالہ الخیر الدال علی وجود القطب والابدال کے تحت متعدد روایا ت جمع کی ہیں جن سے ابدال کا ثبوت ملتاہے لیکن نہ تو ان روایات میں اس بات کاذکر ہے اور نہ ہی حضرت علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ان روایات کی روشنی میں کہیں یہ تحریر فرمائی ہے کہ ان بزرگوں کو کوئی مستقل تصرف فی الامور کی طاقت دے دی گئی ہے جس کی بنیاد پر ان کو اپنی حاجات میں مدد کے لئے غائبانہ پکار نا جائز ہے ۔ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ ﴿ فتاوی عثمانی ج/١﴾میں تحریر فرمایاہے کہ اقظاب وابدال تکوینیات کی اصطلاحیں ہیں ، ان کی حقیقت اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، قرآن وحدیث میں بھی ان کی تفصیلا ت موجود نہیں ہیں ،البتہ صوفیاء کرام اور بزرگان دین کے مکاشفات وتجربات ہیں ، جن کی تردید بھی نہیں کی جاسکتی ، لیکن کسی مسئلے پر عمل یا عقیدہ ان اصطلاحات کو جاننے یاتسلیم کرنے پر موقوف نہیں ہے ۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔