021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاشوہر پربیوی کاعلاج معالجہ لازم ہے ؟
..نان نفقہ کے مسائلنان نفقہ کے متفرق مسائل

سوال

بیوی کے علاج ومعالجہ کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی صراحت نہیں،اورفقہ کی کتب میں اس کوشوہر کے ذمہ لازم نہیں قراردیاگیا،لیکن وہ ان کے عرف کے مطابق تھا،کیونکہ اس زمانے میں سادہ علاج تھے،ٹوٹکوں سے علاج ہوجاتاتھا،اورعلاج کاخرچہ اتنانہیں ہوتاتھاکہ بیوی جس کاروزگارنہ ہووہ اس کوبرداشت نہ کرسکے،اورآج دنیاوی اسباب کومدنظر رکھتے ہوئے جوایسی مہلک بیماریوں کاعلاج نہ کروائے توظن غالب کے مطابق اس کازندہ بچنامشکل ہے جیسے ہارٹ اٹیک، کینسروغیرہ،توایسی صورت میں بیوی کاعلاج شوہرکے ذمہ واجب نہیں توکس کے ذمہ ہوگا؟نیز الفقہ الاسلامی وادلتہ جس کاحوالہ ورقہ نمبر 2 میں ہے انہوں نے اس کوعرف پرمحمول کرکے شوہر کے ذمہ بیوی کے علاج کولازمی اورضروری کہاہے،بلکہ اس کونان نفقہ سے بھی زیادہ ضروری کہاہےاوراس مسئلہ کے باے میں شیخ الاسلام صاحب کوبھی ترددہے جیسے کہ ان کے فتاوی عثمانی کی عبارت سے واضح ہے توپھراس کی توجیہ کیاہوگی؟ تمام فقہی مکاتب کے ہاں بیوی کے علاج معالجہ کاخرچہ شوہر کی ذمہ داری نہیں،اس کی جوبھی توجیہ کی جائے وہ زمانے کے اعتبارسے درست ہے،مگراس دورمیں اس پرسائل کوکچھ اشکالات ہیں،امید ہے کہ ان اشکالات کورفع کرکے صحیح راہنمائی فرمائیں گے ۔ ۱۔پچھلے دورمیں علاج معالجہ بس سادہ انداز سے ہوتاتھا،اورموجودہ پیچیدہ امراض بھی بفضلہ تعالی موجودنہ تھے،اب اس دورحاضر میں ایک توجدید امراض بھی بکثرت وجودمیں آرہے ہیں،اورعلاج معالجہ کی پیچیدگیاں بھی۔ ۲۔ہمارے عرف میں اب اس کوخرچے کاحصہ ہی سمجھاجاتاہے ۔ ۳۔پھراگرشوہرانکارکرے توبیوی کے علاج کےمصارف کاانتظام کیاہوگا؟ ۴۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فتاوی عثمانی میں لکھتے ہیں: "اس مسئلہ میں احقرکوبھی مدت سے ترددہے،ایک مرتبہ اس مسئلہ پردوسرے فقہاء کی کتب کی بھی مراجعت کااتفاق ہوااوریہ عجیب بات نظرآئی کہ سب کے ہاں صورتحال یکساں ہی سی ہے، یعنی علاج کے خرچے کونفقہ کاحصہ قرارنہیں دیاگیا،لیکن تلاش کے باوجودقرآن وسنت کی کوئی ایسی نص بھی نہیں ملی جس میں یہ صراحت ہوکہ علاج کاخرچہ شوہرپرواجب نہیں،اس لئے احقرکوکچھ یہ خیال ہوتاہے کہ قرآن کریم میں نفقہ کے ساتھ بالمعروف کی قیدلگائی گئی ہے جس کاحاصل یہ معلوم ہوتاہے کہ نفقہ کاتعین عرف پرمبنی ہے ،پچھلے دورمیں چونکہ علاج کاخرچہ کچھ زیادہ لمباچوڑانہیں ہوتاتھا،اس لئے شایدعرف یہ تھاکہ وہ نفقہ میں شامل نہیں،اگریہ بات درست ہوتوعرف کی تبدیلی کی وجہ سے حکم بدل جاناچاہئے اوربظاہریہ معلوم ہوتاہے کہ ہمارے دورمیں عرفاعلاج نفقہ کاحصہ ہے، یوں بھی عقلایہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگرشوہر پرعلاج کاخرچہ واجب نہ ہوتوبیماری کی صورت میں عورت کیاکرے گی؟جبکہ موجودہ دورمیں علاج کاخرچہ اتناہوتاہے کہ ایک ایسی بیوی جس کاکوئی ذریعہ معاش نہ ہو،تواس کاتحمل نہیں کرسکتی ،لیکن یہ ساری باتیں ابھی تک سوچ ہی حیثیت میں ہیں چونکہ کہیں منقول نہیں دیکھیں ۔۔(فتاوی عثمانی ج: 2ص491 ) "الفقه الإسلامي وأدلته"10 / 110: ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالباً ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟۔ "المجموع لمحي الدين النووي " 18 / 255: ولا يلزمه أجرة الحجامة والفصادة، ولا ثمن الادوية ولا أجرة الطبيب ان احتاجت إليه لان ذلك يراد لحفظ بدنها لعارض۔ ولنا وفقة عند هذا الامر الذي ينبغى النظر إليه من خلال ما طرأ على حياة الناس من تغير، وليس هذا الفرع بالشئ الثابت الذي لا يتأثر بالعوامل الانسانية السائدة، فإنه إذا كان الزوجان في مجمتع أو بيئة أو دولة تكفل للعامل والشغال قدرا من الرعاية الصحية تحت اسم اصابة العمل أو المرض أثناء الخدمة فيتكفل صاحب العمل ببعض نفقات العلاج أو كلها، فإنه ليس من العروف أن لضرب المثل هنا بإجارة الدار مع الفارق بين الزوجة والدار، والاقرب إلى التشبيه أن يكون المثل إنسانيا فيضرب المثل بالعامل فإنه أولى على أن الفصل في ذلك أن المرء فيها أمير نفسه، فإن كان يحس في وجدانه بقوله تعالى " والله خلق لكم من أنفسكم أزواجا لتسكنوا إليها وجعل بينكم مودة ورحمة " فإنه لن يشح عليها بما يزيل وصبها وعطبها في كتفه، وهو أمر مستحب يدخل في فضائل المروءة وحسن المعاشرة والايثار۔

o

جیساکہ حضرت مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے بھی لکھاہے کہ تمام کتب فقہ میں ائمہ اربعہ کے نزدیک اورتمام اردوفتاوی میں مسئلہ بعینہ اسی طرح لکھاہواہےکہ علاج کاخرچہ شوہر پرلازم نہیں ہے،اس لئے اصل حکم یہی ہے کہ علاج اگرمعمولی ہے یامعمولی تونہیں ،لیکن عورت خود علاج کروانے کی استطاعت رکھتی ہے توعورت کے علاج کاخرچہ خوداسی پر لازم ہے ،شوہرسے اس کامطالبہ درست نہیں(خیرالفتاوی میں یہاں تک لکھاہے کہ اگرعورت بیمارہواورعلاج کاخرچہ نہ ہوتواس کوچاہئے کہ اپناجہیز کاسامان بیچ کرعلاج کروائے ،شوہر پراس کے علاج کاخرچہ لازم نہیں۔( خیرالفتاوی ج4/567) لیکن اگربیوی خودعلاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتی ،جبکہ اس کا شوہرعلاج کروانے کی قدرت رکھتاہے توایسی صورت میں بیوی کاعلاج شوہرکے ذمہ لازم ہوگا،ایک تواس لئے کہ آج کل کے عرف میں علاج بھی نان نفقہ کاحصہ ہے،اورنان نفقہ شوہر کی ذمہ داری ہے،خصوصاایسی حالت میں جب بیوی خوداس کی استطاعت نہ رکھتی ہو،دوسرایہ کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کاانتہائی تاکید کے ساتھ حکم واردہے،اوریہ حسن معاشرت نہیں کہ بیوی کوبیماری کی حالت میں کسمپرسی کی کیفیت میں چھوڑدیاجائےاوراستطاعت کے باوجود اس کے علاج کاانتظام نہ کیاجائے۔ اور اگرشوہربھی علاج کرواسکتاہےاوربیوی خودبھی کرواسکتی ہے،تو شوہر سے اس کامطالبہ کرنادرست نہیں، بیوی پرلازم ہوگاکہ وہ اپنا علاج خودکروائے ،البتہ اس صورت میں بھی اگرشوہر تبرعااپنی استطاعت کے مطابق خودعلاج کروائے تواچھی بات ہے ،اور بیوی پرخرچ کرنے کے فضائل کی وجہ سے اس کاثواب بھی بہت ہوگا،اور اخلاقااس کوکروانابھی چاہئے ،کیونکہ بیوی اپنا گھربار ،بہن بھائی سب کچھ چھوڑکرایک شوہر ہی کے آسرے پرشوہر کے پاس آتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان یہ رشتہ صرف ضابطوں پرعمل کرنے سے نہیں چل سکتا،بلکہ رابطے اورمحبت کے تقاضوں پرعمل کرنے سے چلے گا،اگرشوہر علاج کروانے سے انکار کردےتوبیوی پربھی چونکہ شوہر کی خدمت اخلاقاواجب ہے،قانونا واجب نہیں،اس لئے بیوی بھی خدمت سے انکارکرسکتی ہے اس طرح تومیاں بیوی کاآپس میں گزارہ نہیں ہوسکےگا،اوربالآخرنوبت جدائی تک پہنچ جائےگی،اس لئے دونوں کوچاہئے کہ ایک دوسرے کاخیال کریں،عفودرگزرسے کام لیں،ہرایک بقدراستطاعت دوسرے پرخرچ کرنے کی کوشش کرے۔ اوراگربیوی بھی اپناعلاج نہیں کرواسکتی،اورشوہر بھی اس کے علاج پرقادرنہیں توایسی صورت میں دونوں کوچاہئےکہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق مل جل کرخرچہ کریں،تواللہ تعالی بھی مددفرمائیں گے۔ شوہرپر علاج کاخرچہ لازم ہونے کے ممکنہ دلائل کاخلاصہ: ۱۔احناف میں سےامام حسن بن زیادکا ایک قول ملتاہے کہ علاج کاخرچہ بھی نفقہ واجبہ میں داخل ہے۔ ۲۔ ابن عبد الحکم فقیہ مالکی کابھی یہی قول ہے۔ ۳۔امام نسائی رحمہ اللہ تعالی کتاب"عشرۃ النساء للنسائی "کی تحقیق وتخریج کرتے ہوئے شیخ علی بن نائف الشحودنے بھی اسی قول کولیاہے اوریہ فرمایاہے کہ یہ قول ایساہے کہ عام نصوص واردۃ فی الانفاق علی الزوجۃ اورحسن معاشرۃ بالمعروف کے موافق بھی ہے۔ ۴۔ تبیین الحقائق میں ہے کہ مضارب مضاربت کے مال سے اخراجات وصول کرسکتاہے اوران اخراجات میں عام طورپردواء وحجامہ کے اخراجات شامل نہیں ہوتے،لیکن اگرکہیں اس کاعرف ہوجائےتوپھرمضاربت میں سے دواء وعلاج کاخرچہ بھی لے سکتاہے،اس مسئلہ سے معلوم ہوتاہے کہ فقہاء کے زمانے میں عرفا حجامہ ودواء وغیرہ نفقہ میں داخل نہیں تھے ،اس لئے اس وقت شوہر پربیوی کاعلاج معالجہ لازم نہیں تھا،لیکن آگے عبارت میں الاان یکون فی موضع جرت العادۃ فیہ بذالک سے معلوم ہوتاہےکہ اگرکہیں عرف وعادۃ اس پرجاری ہوجائے تویہ عام نفقہ میں داخل ہوجائے گا،اورشوہرپرلازم ہوگا۔ ۵۔ الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں حنابلہ اورشافعیہ کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگرعورت کوسگریٹ پینے کی عادت ہوتوشوہر پرلازم ہے کہ وہ اس کابندوبست کرے عام نفقہ کی طرح۔ علاج توسگریٹ سے کہیں زیادہ ضروری ہے اور اس کے نہ ہونے میں ضررشدید لاحق ہوسکتاہے ،اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ مجبوری کی حالت میں شوہر پرعلاج کولازم کیاجاسکتاہے ۔

حوالہ جات

o "تبيين الحقائق" 14 / 165: وعن الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله أن الدواء أيضا يكون في مال المضاربة ؛ لأنه لإصلاح بدنه وتمكنه من العمل فصار كالنفقة۔ قانون مصری فقہ مالکی میں اس کولازم کیاگیاہے ،جس کاحوالہ فتاوی الازہر، الفقہ الاسلامی وادلتہ اورعشرۃ النساء للنسائی کی شرح میں دیاگیاہے۔ وأخذ القانون المصري (م100) لسنة 1985م برأي في الفقه المالكي أن النفقة الواجبة للزوجة تشمل الغذاء والكسوة والمسكن ومصاريف العلاج وغير ذلك بمايقضي به الشرع وأخذت المحاكم بهذا. وفى القانون المصرى للأحوال الشخصية رقم 44 لسنة 1979 م نصت المادة 2/ 4 على أن النفقة تشمل الغذاء والكساء والمسكن ومصاريف العلاج وغير ذلك مما يقض به العرف "الفتاوى الإسلامية۔ "عشرة النساء للنسائي" 1 / 124: أخبرنا أحمد بن بكار قال : حدثنا محمد وهو ابن سلمة ، عن ابن عجلان ، عن المقبري ، عن أبيه ، عن أبي شريح الخزاعي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اللهم إني أحرج حق الضعيفين حق اليتيم وحق المرأة "حدیث حسن ۔ أخبرني حسين بن منصور بن جعفر قال : حدثنا مبشر بن عبد الله قال : حدثنا سفيان بن حسين ، عن داود الوراق ، قيل : إنه داود بن أبي هند عن سعيد بن حكيم ، عن أبيه ، عن جده معاوية قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فلما دفعت إليه ، قلت : " بالله الذي أرسلك أهو أرسلك بما تقول ؟ " قال : نعم قال : " وهو أمرك بما تأمرنا به " قال : نعم قال : " فما تقول في نسائنا ؟ " قال : " هن حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم ، وأطعموهن مما تأكلون ، واكسوهن مما تلبسون ولا تضربوهن ولا تقبحوهن " أخرجه البيهقي برقم(15122) وأبو داود برقم(2146) صحيح لغيره،نيل الأوطار - (ج 10 / ص 464) مذکورہ احادیث کی تحقیق ،تخریج وتشریح کرتے ہوئے شیخ علی بن نائف الشحود نے لکھاہے : ويجب أن يعلم أولا أن المسألة ليس فيها نصوص خاصة وإنما هي مسألة اجتهادية وللعرف فيها اعتبار وقال ابن عبد الحكم الفقيه المالكي بوجوب تحمل الزوج لنفقات علاج زوجته وهو قول الزيدية وهذا قول وجيه يؤيده عموم النصوص الواردة بالإنفاق على الزوجة بالمعروف وحسن معاشرتها بالمعروف أيضا وقد مشت معظم قوانين الأحوال الشخصية على هذا الرأي وأفتى به جماعة كبيرة من أهل العلم المعاصرين فقد ورد في المادة رقم 66 من قانون الأحوال الشخصية المعمول به في المحاكم الشرعية في بلادنا ما يلي:[نفقة الزوجة تشمل الطعام والكسوة والسكنى والتطبيب بالقدر المعروف ...].ويحتج لهذا القول بالعمومات الواردة كما في قوله تعالى:(وعاشروهن بالمعروف( سورة النساء الآية 19. قال الإمام القرطبي:[ قوله تعالى:(وعاشروهن بالمعروف( أي على ما أمر الله به من حسن المعاشرة والخطاب للجميع إذ لكل أحد عشرة - زوجا كان أو وليا ولكن المراد بهذا الأمر في الأغلب الأزواج وهو مثل قوله تعالى :(فإمساك بمعروف( وذلك توفية حقها من المهر والنفقة وألا يعبس في وجهها بغير ذنب وأن يكون منطلقا في القول لا فظا ولا غليظا ولا مظهرا ميلا إلى غيرها، والعشرة: المخالطة والممازجة... فأمر الله سبحانه بحسن صحبة النساء إذا عقدوا عليهن لتكون أدمة ما بينهم وصحبتهم على الكمال فإنه أهدأ للنفس وأهنأ للعيش وهذا واجب على الزوج...] تفسير القرطبي 5/97. ولا شك أن معالجة الزوجة إن مرضت وتأمين الدواء لها من المعاشرة بالمعروف وكذلك قوله تعالى:(وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف( فإن أجرة العلاج وثمن الدواء داخل في الرزق. ويدل على ذلك قول النبي صلى الله عليه وسلم لهند زوجة أبي سفيان (خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف) فهذا يشمل كل ما تحتاج إليه الزوجة وأولادها ويدخل فيه الأدوية وأجرة العلاج. ولعل جمهور الفقهاء الذين قالوا بعدم وجوب أجرة العلاج على الزوج بنوا هذا الحكم على ما كان معروفا في زمانهم وخاصة أن الناس كانوا يعتنون بصحتهم ويتعالجون بأدوية طبيعية غير مكلفة، وأما في زماننا فقد اختلفت الأمور كثيرا وصار العلاج مكلفا وكذا ما يترتب على ذلك من أجور المستشفيات ونحوها قال العلامة ابن عابدين الحنفي في منظومته: والعرف له اعتبار فلذا الحكم عليه قد يدار. وخلاصة الأمر أنه يلزم الزوج معالجة زوجته المريضة وعليه تحمل تكاليف علاجها ما دام مستطيعا ويكون ذلك حسب العرف السائد في المجتمع. "تبيین الحقائق" 14 / 167: وأما الدواء والحجامة ونحو ذلك فليس له ذلك ؛ لأن النفقة للطعام والكسوة ، ألا ترى أن القاضي يقضي بنفقة الزوجة بالطعام والكسوة ولا يقضي بالدواء والحجامة۔ كذلك هاهنا إلا أن يكون في موضع جرت العادة فيه بذلك وذكر عن الحسن بن زياد أنه كان يقول يجوز له أن ينفق في الحجامة وحلق الشعر ونحو ذلك قال الفقيه ومعنى هذا إذا كان في موضع جرت العادة فيه بذلك . " الموسوعة الفقهية الكويتية" 11 / 107: يرى بعض الشّافعيّة والحنابلة أنّ الزّوجة إن اعتادت شرب الدّخّان تفكّهاً وجب على الزّوج توفيره لها ضمن حقّها في النّفقة . ويرى الحنفيّة أنّه لا يلزمه ذلك وإن تضرّرت بتركه ، قال ابن عابدين : لأنّ ذلك إن كان من قبيل الدّواء أو من قبيل التّفكّه ، فكلّ من الدّواء والتّفكّه لا يلزمه . ولم يصرّح المالكيّة بذلك ، إلاّ أنّ قواعدهم كالحنفيّة في أنّ الدّواء والتّفكّه لا يلزم الزّوج۔ "فتاوى الأزهر" 10 / 28: نفقة علاج الزوجة:السؤال: هل تجب على الزوج نفقة علاج زوجته ، أم أن النفقة عليها هى ؟ الجواب: قال اللّه تعالى {وعاشروهن بالمعروف } النساء : 19 وقال صلى الله علية وسلم "ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف . " رواه مسلم ، وحذر من التقصير فى ذلك فقال "كفى بالمرء إثما أن يضيع من يَقُوت " رواه أبو داود وروى مثله مسلم . وقد فصل العلماء هذه المعاشرة المطلوبة وأنواع النفقة اللازمة، من غذاء وكساء ومسكن ومتعة وخدمة، وما يعتاد فى المواسم والمناسبات "يراجع الجزء الثالث من موسوعة الأسرة تحت رعاية الإسلام ص 203" . ومن جهة علاجها قال الذين أوجبوا لها ما تطلبه الحامل أثناء الوحم ، بوجوب علاجها من المرض ، فإن المرض له دخل كبير فى التأثير على تمتعه بها ، وعلاجها فهو من المعاشرة بالمعرف ، وللفقهاء اجتهاد فى ذلك . وفقهاء الشافعية "الإقناع للخطيب ج 2 ص 191 " لا يوجبون على الزوج ثمن الدواء ولا أجر الطبيب ، متعللين بأن ذلك لحفظ الأصل ولا صلة له به ، وكيف يقال ذلك والمرض مانع أو منغص على الزوج متعته وما يلزمها وما تقوم به الزوجة من واجبات الأسرة ؟ مثل الشافعية قال الحنابلة "معجم المغنى ص 970 " . وفى القانون المصرى للأحوال الشخصية رقم 44 لسنة 1979 م نصت المادة 2/ 4 على أن النفقة تشمل الغذاء والكساء والمسكن ومصاريف العلاج وغير ذلك مما يقض به العرف "الفتاوى الإسلامية - المجلد الرابع ص 1387 " . " الفقه الإسلامي وأدلته " 10 / 110: ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج ۔۔۔۔۔۔ وأخذ القانون المصري (م100) لسنة 1985م برأي في الفقه المالكي أن النفقة الواجبة للزوجة تشمل الغذاء والكسوة والمسكن ومصاريف العلاج وغير ذلك بمايقضي به الشرع وأخذت المحاكم بهذا. "الفقه على المذاهب الأربعة" 4 / 264: أما إذا كانت الزوجة فقيرة والزوج غني فإن قواعد الإسلام تقضي بإلزامه بمعالجتها فإنه يجب على الأغنياء أن يغيثوا المكروب ويعينوا المريض فالزوجة المريضة إذا لم يعالجها زوجها الغني وينقذها من كربها فمن يعالجها غيره من الأغنياء ؟أليس من المعقول الظاهر أن يعالجها زوجها ويدفع لها ثمن الدواء إلزاما ؟
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔