021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بلوچی زبان کا لفظ ,,تہ وتی من وتی،،کہنے کاحکم
..طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری بیوی بار بار اپنے بھائی کے والدین کے گھر چلی جاتی ہے ، ایک ماہ میں سات دفعہ گئی ،وہ بھائی کے ساتھ جاتی ہےپھر میں ذاتی سواری پر واپس لےکے آتا ہوں ۔ تنگ آکر میں نے بلوچی زبان میں کہا اگر گئی تو ,,تہ وتی من وتی ،،جس کا ارد میں مفہوم یہ ہے اگر گئی تو,, تو وہیں بیٹھی رہ اور میں یہاں بیٹھا رہونگا ،،۔ یاد رہے اس جملہ کے استعمال کے وقت میں نےطلاق کی نیت نہیں کی تھی۔لیکن بیوی کے بھائی کے کہنے پر ایک مولوی صاحب نے اس جملہ سے وقوع طلاق کا فتوی لکھدیا ۔ ایک فیصلہ کی مجلس میں مولانا صاحب نے کاغذ پر طلاق ہوچکی ہے لکھ دی اور مہر کی ادائیگی لازم کردی ،مجھے طلاق کے فیصلہ کا علم نہیں تھا اورمجھ سے دستخط کا کہا میں نے حق مہر کا فیصلہ سمجھ کر دستخط کردیا ا۔س کے بعد میری بیوی کا نکاح کہیں اور کردیا ۔ ١۔ اب سوال یہ ہے ,,تہ وتی من وتی ،،کے جملہ سے بغیر نیت طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟ ۲۔ مولوی صاحب چونکہ طلاق ہوچکی لکھنے اور حق مہر کے فیصلے پر دستخط کرنے سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟

o

١۔ واضح ہوکہ مفتی غیب نہیں جانتا صحت سوال کی تمام تر ذمہ داری سائل پر ہے ۔صورت مسئولہ میں بیوی کو ماں باپ کے گھر جانے سے روکنے کے لئے یہ کہنا کہ اگر گھر سے گئی تو ,, تی وتی من وتی ،، یہ طلاق کے کنائی الفاظ میں سے ہے اس سے وقوع طلاق نیت پر موقوف ہے ،گر واقعة اس جملہ کے استعمال کے وقت طلاق کی نیت نہیں تھی تو طلاق الفتاوى الهندية (8/ 316) ثم الكنايات ثلاثة أقسام ( ما يصلح جوابا لا غير ) أمرك بيدك ، اختاري ، اعتدي ( وما يصلح جوابا وردا لا غير ) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري ( وما يصلح جوابا وشتما ) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة ( حالة ) الرضا ( وحالة ) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها ( وحالة ) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية . وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي . وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون وهي لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك فارقتك ولا رواية في خرجت من ملكي قالوا هو بمنزلة خليت سبيلك وفي الينابيع ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى وهي الأربعة المتقدمة وزاد خالعتك والحقي بأهلك هكذا في غاية السروجي . ۲۔ طلاق کا اختیا ر شوہر کے پاس ہوتا ہے اگر شوہر نے طلاق نہیں دی نہ کسی کووکیل بنایاتوصرف مولوی صاحب کااپنی طرف سے طلاق ہوچکی ہے لکھدینےسے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔ ﴿نوٹ ﴾ یہ بھی یاد رہے کہ شوہر عبد الرزاق کا بیوی کو خلاص ہے کہنے پر اگردو شرعی گواہ موجود ہیں جسکی بنیاد پر مولوی صاحب نے طلاق کا فتوی دیا ہےتو شرعا وہ فیصلہ معتبر ہے ۔ اگر عدت پوری ہونے کے بعد عورت کا دوسری جگہ نکاح ہوا ہے تووہ بھی معتبر ہے ۔ اور اگر اس پر کوئی شرعی گواہ موجود نہیں ہیں تو صرف عورت کے بھائی اور مولوی صاحب کے کہنے اور لکھنے سے طلاق نہ ہوگی ۔ نہیں ہوئی ۔

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔