021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ہوٹل کے کھانوں کا بعد میں حساب کرنے کا حکم
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت بندہ نے یہ پوچھنا تھا کہ بندہ اپنے معاملات کچھ لوگوں سے طے کرتا ہے اس میں شریعت کی رہنمائی مطلوب ہے۔ بندہ ہوٹل سے کھانا وغیرہ کھاتا ہے اور اس کو ان کی کاپی میں اندراج کرتا ہے اور کبھی اس کو اندراج کرنا بھول جاتا ہے۔ البتہ ہرہفتہ کے بعد پیسوں کی ادائیگی کرتا ہے۔بندہ کی اور ان کی آپس میں باہمی (Understanding) ہے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ پیسے لکھنا بھول گیا اور وہ بالکل یاد نہیں رہے۔ ہوٹل مالکان کا بندہ پر بے حد اعتماد ہے۔ جس کے سبب انہوں نے کبھی پوچھا بھی نہیں۔ بندہ کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ پورے پیسوں کی ادائیگی کرے۔ البتہ بعض دفعہ پیسے ادائیگی سے رہ جاتے ہیں۔ بندہ جب پیسے کی ادائیگی کرتا ہے تو کشمکش میں ہوتا ہے تو کچھ زیادہ رقم کی ادائیگی کرتا ہے اور ان سے یہ بھی عرض کرتا ہے کہ کوئی کمی بیشی ہو تو معاف کرنا۔ وہ کہتے ہیں مذاق میں کوئی مسئلہ نہیں۔ آیا میرے یہ معاملات کیسے ہیں۔ آیا جو پیسے میں نے ادا نہیں کیے تو وہ مجھ پر معاف ہے یا نہیں۔ اگر معاف نہیں تو ان کی ادائیگی کی کیا ترتیب کی جائے۔ برائے کرم اس حوالہ سے مکمل رہنمائی کی جائے۔

o

صورت مسئولہ میں آپ پر لازم ہے کہ آپ نے ہوٹل میں جو کھایا پیا ہو، اس کا درست حساب اپنے پاس رکھیں تاکہ بعد میں آپ کے لیے اس کی قیمت کی ادائیگی آسان ہوجائے۔ البتہ اب تک آپ نے جو ہوٹل میں کھایا پیا ہے، جس کا حساب کتاب آپ کے پاس نہیں ہےتو ہوٹل والوں سے پوچھ کر اس کی قیمت ادا کردیں اور جس کا حساب نہ آپ کو یا د ہو اور نہ ہی ہوٹل والوں کو تو آپ یا تو اسے ہوٹل والوں سے معاف کروالیں یا پھر اپنی طرف سے ایک اندازہ لگاکر اس کی قیمت ان کو ادا کردیں۔

حوالہ جات

"فروع: ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها جاز استحسانا… وخرجها في النهر على كون المأخوذ من العدس ونحوه بيعا بالتعاطي، وأنه لا يحتاج في مثله إلى بيان الثمن؛ لأنه معلوم. اهـ.واعترضه الحموي بأن أثمان هذه تختلف فيفضي إلى المنازعة. اهـ. قلت: ما في النهر مبني على أن الثمن معلوم، لكنه على هذا لا يكون من بيع المعدوم بل كلما أخذ شيئا انعقد بيعا بثمنه المعلوم قال: في الولوالجية: دفع دراهم إلى خباز فقال: اشتريت منك مائة من من خبز، وجعل يأخذ كل يوم خمسة أمناء فالبيع فاسد وما أكل فهو مكروه؛ لأنه اشترى خبزا غير مشار إليه، فكان المبيع مجهولا ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لا ينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحا. اهـ. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)4/516 ط:دار الفکر بیروت)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔