021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیع مرابحہ کا حکم
..خرید و فروخت کے احکاممرابحہ اور تولیہ کا بیان

سوال

ایک شخص کاروباری ضرورت کو پورا کرنے یا کاروبار بڑھانے کے لیے دوسرے بندے سے قرض طلب کرتا ہے لیکن وہ قرض نہیں دیتا بلکہ اس کے لیے 3 لاکھ کی ٹائر خریدکر اس پر 450000 پر فروخت کردیتا ہے ایک سال تک قرض کے طور پر، لہذا وہ تاجر اس کو مارکیٹ میں لے جاکر کیش/ نقد پر فروخت کردیتا ہے اور اپنی کاروباری ضرورت پوری کرلیتا ہے، اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

o

صورت مسئولہ میں کاروباری شخص کو قرض دینے کے بجائے 3 لاکھ روپے کے ٹائر خریدکر 450000 پر ایک سال تک قرض کے طور پر فروخت کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ بیع مرابحہ ہے جس میں اصل قیمت میں کچھ اضافہ کے ساتھ سامان کو بیچا جاتا ہے۔ یہاں اصل قیمت 3 لاکھ روپے ہےجس میں 50% کے منافع کے ساتھ بیع مرابحہ ہورہی ہے تو یہ جائز ہے۔ البتہ اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح دوسری بیع ٹائروں پر قبضہ کرنے کے بعد ہو۔ قبضہ کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ دوکاندار ٹائر الگ کرکے ان پر خریدار کو قبضہ کرنے کی اجازت دیدے۔

حوالہ جات

"(المرابحة) مصدر رابح وشرعا (بيع ما ملكه) من العروض ولو بهبة أو إرث أو وصية أو غصب فإنه إذا ثمنه (بما قام عليه وبفضل)" (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)5/132 ط: دار الفکر-بیروت) "(المرابحة بيع ما شراه)وفي الدرر بيع ما ملكه لم يقل بيع المشتري ليتناول ما إذا ضاع المغصوب عند الغاصب وضمن قيمته ثم وجده حيث جاز له أن يبيعه مرابحة وتولية على ما ضمن وإن لم يكن فيه شراء (بما شراه به) أي بمثل ما قام عليه كما في الدرر ثم قال ولم يقل بثمنه الأول لأن ما يأخذه من المشتري ليس بثمنه الأول بل مثله فهذا علم أن في عبارة المصنف تسامحا (وزيادة) على ما قام عليه وإن لم يكن من جنسه وسبب جواز البيع مرابحة تعامل الناس بلا نكير، واحتياج الغبي إلى الذكي مع أن الغرض من المبيعات الاسترباح." (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر2/74 ط: دار احیاء التراث العربی)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔