021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینک اور اس کی معاون کمپنیوں میں ملازمت کا حکم
..سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

2۔ایسی کمپنیاں جو بینک وغیرہ کے لیے سافٹ وئیرز بناتی ہیں ،ان میں مالیات سے متعلق کام کرنا۔وہ کمپنیاں جو ان کے لیے معاونت کا کام کرتی ہیں اور اس کے مالیاتی کاروبار سے دور رہتی ہیں، ان میں مالیات سے متعلق کام کرنا کیسا ہے؟

o

2۔وہ کمپنیاں جوبینک کے لیےایسے سافٹ وئیرزبناتی ہیں جو صرف سودی معاملات کے لیے کارگرہوں ، ایسی کمپنیوں میں مالیات سے متعلق کام کرنا جائز نہیں ہے۔اسی طرح اگر وہ سافٹ وئیرز عمومی ہوں کہ سودی اور غیر سودی دونوںکےلیے ان کا استعمال ممکن ہو ، لیکن کمپنیاں سودی معاملات میں استعمال کے ارادے سے بناتی اور بیچتی ہیں یا معاملہ میں اس کی صراحت کردی گئی تو ان میں کام کرنا بھی جائز نہیں۔تاہم اگر ایسی چیزیں بیچتے وقت سود کے لیے استعمال کی نہ صراحت ہو اور نہ قصد ہو بلکہ اس کے خلاف جائز امور میں استعمال کی نیت سے انہیں ایسی چیز بیچی جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔ ایسی کمپنیاں جوبینکوں کے لیےمعاونت کا کام کرتی ہیں، لیکن مالیاتی کاروبار سے دور رہتی ہیں ، اس قسم کی کمپنیوں میں مالیاتی کام کرنا بھی اس وقت جائز ہوگا جب کہ کمپنی کی اکثر آمدنی حلال ہو۔

حوالہ جات

قال الشیخ تقی العثمانی حفظہ اللہ تعالی:وکذلک الحکم فی بر مجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربویً،فان قصد بذلک الاعانۃ،او کان البرنامج مشتملاً علی مالا یصلح الا فی الاعمال الربویۃ،او الاعمال المحرمۃ الاخری،فان العقد حرام و باطل.اما اذا لم یقصد الاعانۃ،و لیس للبرنامج ما یتمحض للاعمال المحرمۃ ،صح العقد و کرہ تنزیھاً. وعلی ھذا الاساس یمکن تخریج مسائل حدیثۃ کثیرۃ من ھذاالنوع،واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ،وسیاتی مزید التفصیل لھذہ المسئلۃفی شروط المبیع ان شاء اللہ تعالی. (فقہ البیوع:1/194) قال الشیخ تقی العثمانی حفظہ اللہ تعالی:السادس : بیع الأشیاء إلیہ(البنک) : وفیہ تفصیل ، فإن کان المبیع ممایتمحٖض استخدامہ فی عقد محرم شرعاً، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربویۃ خاصۃ، فإن بیعہ حرام للبنک وغیرہ ، وکذلک بیع الحاسوب بقصد أن یستخدم فی ضبط العملیات المحرمۃ أوبتصریح ذلک فی العقد.أمابیع الأشیاء التی لیس لہا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات المحرمۃ ، مثل السیارات أو المفروشات ، فلیس حراماً، وذلک لأنہا لایتمحض استخدامہا فی عمل محظور. (فقہ البیوع:2/264) وفى الفتاوى الهندية :ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار.وفيها :آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔