021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نفسیاتی مریض کی طلاق کاحکم
..طلاق کے احکامبیمار کی طلاق کا بیان

سوال

سوال: سائل کے بھانجےنے اپنی بیوی کوچارسے پانچ مرتبہ اس کانام لے کرکہاکہ میں تمہیں طلاق دیتاہوں،اس کے بعدبیٹی نےفون پرمجھے بتایاتواس نے فون لے کرمجھے کہاکہ میں نے ٹینشن کی وجہ سے یہ غلطی کی ہے۔اس وقوعہ سے آدھے گھنٹہ قبل اس نےاپنی بیوی کوکہاکہ میں تمہیں ایک بری خبرسناؤں گا۔پوچھنایہ ہےکہ کیاتین طلاق واقع ہوئیں یانہیں؟بعض لوگ کہتےہیں کہ تین نہیں ایک طلاق ہوئی۔ طلاق دینےوالانفسیاتی مریض ہے،لیکن پاگل نہیں ہے،اس لئے بعض لوگ کہتےہیں نفسیاتی مریض ہے اس لئے کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

o

اگر اس شخص کی نفسیاتی بیماری اس حد تک ہے کہ وہ بے اختیاربول پڑتاہے اورکم ازکم دو مستند ڈاکٹربھی اس کی تصدیق کرتے ہیں تو اس کی دی گئی طلاق کاکوئی اعتبارنہیں اور اگر مرض اس درجے کانہیں جیساکہ ٹینشن کے مریض عموماایسے ہی ہوتے ہیں تو اس کی باتیں شرعا معتبر ہیں اورمذکورہ لڑکی کوتین طلاقیں ہوچکی ہیں۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 1 / ص 303): كل الطلاق واقع إلا طلاق المعتوه والمغلوب على عقله فافهم." فتح القدير (ج 7 / ص 493): "( قوله ولا يقع طلاق الصبي ) وإن كان يعقل ( والمجنون والنائم ) والمعتوه كالمجنون ، قيل هو القليل الفهم المختلط الكلام الفاسد التدبير لكن لا يضرب ولا يشتم ، بخلاف المجنون ... عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم { كل طلاق جائز إلا طلاق المعتوه المغلوب على عقله }"
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔