021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ضرورت کے لئے رکھی گئی رقم پرزکوة کاحکم
..زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

سوال :ایك صاحب نے اپناگهرفروخت كیا ہے،جس کی رقم دوسراگھرخریدنےکےلئےرکھوائی ہے اورگھرکی تلاش جاری ہے۔ پوچھنایہ ہےکہ کیااس رقم پرسالانہ زکوة دینی ہوگی ،کیونکہ گھرکےیادوکان کےکرایہ پرزکوة واجب نہیں، نیز یہ رقم جلدہی دوسرےگھر کے لئے استعمال ہونے والی ہے۔

o

کرنسی کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کوپہنچ جائے اوراس پرسال بھی گذرجائے تواس پرزکوة واجب ہے ،اگرچہ وہ کسی ضرورت کی تکمیل کے لئے رکھی ہو،لہذامذکورہ صورت میں سال کے گذرنے پرزکوة اداکرناواجب ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 6 / ص 484): "( وشرطه ) أي شرط افتراض أدائها ( حولان الحول ) وهو في ملكه ( وثمنية المال كالدراهم والدنانير ) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة."
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔