021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینک میں جمع شدہ تنخواہ پر اضافی رقم لینا
..سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

جناب مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ میں ایک سرکاری ادارہ میں ملازم ہوں ،اور ادارے کے قانون کے رو سے دیگر ملازمین کی طرح مجھے بھی وی یا زیڈ بینک لیمٹڈ میں اکاونٹ کھلوا کے وہاں سے اپنی تنخواہ لینا لازم ہے ،اور یہ دونوں بینک سودی ہیں ، اب مذکورہ بینک کئی سال بعد ہر ملازم کو 300 یا 500 ڈالر زیادہ دیتاہے تو پوچھنا یہ ہے کہ اس رقم کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ یہاں بعض علما کرام کہتے ہیں کہ چونکہ عام ملازمین کی اس میں کوئی contribution نہیں ہے، لہذا ان کے لیے لینے کی گنجائش ہے،اگرچہ تقوی کا تقاضا نہ لینا ہے، جبکہ بعض علما کرام کا کہنا ہے کہ یہ سود ہے، کیونکہ ادارہ کے سربراہ کا مذکورہ بینک کے ساتھ یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ وہ ملازمین کی تنخواہ مہینہ پورا ہونے سے 24 یا 48 گھنٹے قبل ٹرانسفر کریں گے، اور بینک 24 یا 48 گھنٹہ مذکورہ رقم جوکہ لگ بھگ 2 لاکھ ڈالر سے اوپر بنتی ہے،اپنے اکاونٹ میں رکھ کر اس سے فائدہ اٹھا تا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ قرض ہے ،جس کا نفع ملازم کو دو یا تین سال بعد مل رہا ہے، لہذا یہ کل قرض جر نفعا فھو ربا کے تحت ناجائز اور سود ہے۔

o

بینک میں تنخواہ کی مد میں جو رقم جمع کی جاتی ہے ،وہ اگر کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کی جاتی ہے(جیسا کہ بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے) تو چونکہ کرنٹ اکاونٹ میں جمع شدہ رقم پر اضافی رقم دیناضابطہ کے لحاظ سے نہیں ہوتا ، لہذا ایسی صورت میں بینک کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم بینک کی طرف سے بغیر شرط کے دی جارہی ہے،اس لیے مذکورہ اضافی رقم لینا جائز ہے ، البتہ احتیاط اس میں ہے کہ نہ لیں۔البتہ اگر کرنٹ اکاؤنٹ کے علاوہ اکاؤنٹ کے ذریعے لین دین ہورہا ہو تو پھر اضافی رقم لینا جائز نہیں۔

حوالہ جات

" (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه۔" حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔