021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق دیتاہوں تین بار کہنے کا حکم
..طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

عرض یہ ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ خوشی کی زندگی گذار رہی تھی ہمارے درمیان کوئی ناچاقی نہیں تھی اس دوران میرے شوہر کافی مقروض ہوگئے ، ایک دن میری ساس نے میرے شوہر اور مجھے بولایا قرض کے متعلق بات کی اس دوران میری ساس کے ساتھ میری منہ ماری ہوگئی ، تومیرے شوہر نے غصہ میں اکر مجھے اپنے سامنے بیٹھا کر یہ الفاظ بول دیئے ۔ طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق دیتا ہوں ۔ طلاق دیتا ہوں ۔ محترم جناب ہم میاں بیوی ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا بالکل نہیں چاہتے بلکہ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ زندگی گذار نا چاہتے ہیں ۔ میری چھوٹی چھوٹی تین بیٹیاں ہیں ، سب سے چھوٹی نو ماہ کی ، میرے والد بھائی وغیرہ کوئی نہیں ہے ، میری ماں بولتی ہے بچے شوہر کو دے کر آنا ۔اب میں بچوں کو کیسے چھوڑ دوں ۔ آپ میرے شوہر اور بیٹیوں کے لئے کوئی حل نکالیں بڑی مہربانی ہوگی ۔

o

صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، عورت شوہر پر حرام ہوگئی ہے، اب دونوں کے لئے میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا ناجائز اور حرام ہے ۔ اور حلالہ شرعیہ ﴿یعنی شوہر کی عدت تین ماہواری گذرنے کے بعد عورت کسی دوسری جگہ غیر مشروط شادی کرلے ،پھر وہ شوہراپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کی وفات ہوجائے ،پھر دوسرے شوہر کی عدت بھی گذر جائے ، اس کےبعد آپس کی رضامندی سے نئے مہر کے عوض میں دوبارہ نکاح ہو﴾کے بغیر دوبارہ دونوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا ہے ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (8/ 125) رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔